BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 May, 2004, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب واجپئی کیا کریں گے؟

واجپئی
واجپئی کو اکثر ہارڈ لائن بی جے پی کا معتدل چہرہ تصور کیا جاتا رہا ہے
بھارت میں چودھویں پارلیمانی انتخابات سے قبل یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اٹل بہاری واجپئی شائننگ انڈیا کی چمک دھمک، پاکستان دوستی اور اپنی ’سٹیٹسمین شپ‘ کے بل بوتے پر بی جے پی کو واضح فتح سے ہمکنار کرائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

مبصرین، واجپئی کے حمایتیوں اور غالباً چند کانگریسیوں کو بھی بی جے پی کی اس شکست سے حیرت ہوئی ہے۔

اٹل بہاری واجپئی اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے پہلے غیر کانگریسی ’پردھان منتری‘ ہیں۔ لیکن اب شاید وہ سیاست پر کم اور شاعری پر زیادہ توجہ دیں گے۔

اتنے لمبے سیاسی کیرئیر میں واجپئی کو اکثر ایک ہارڈ لائن جماعت کا معتدل چہرہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔

مسٹر واجپئی میں بعض ایسی خوبیاں ہیں جو عام طور پر سیاستدانوں کو چُھو کر نہیں گزرتیں۔

واجپئی
مسٹر واجپئی میں بعض ایسی خوبیاں ہیں جو عام طور پر سیاستدانوں کو چُھو کر نہیں گزرتیں
انہیں کھانا پکانے اور شاعری کا شوق ہے اورعموماً ان کا کلام ان کی نرم گفتار شخصیت کی عکاسی کرتا ہے ۔اگرچہ مسٹر واجپئی کی سیاسی جماعت بی جے پی، ان کے قریب ترین مشیروں اور ان کی منہ بولی بیٹی کے شوہر رنجن بھٹہ چاریا کو وقتاً فوقتاً بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے لیکن مسٹر واجپئی کا دامن بے داغ تصور کیا جاتا ہے اور ان کے سیاسی مخالفیں بھی رد وکد کے ساتھ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔

مسٹر واجپئی کو ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی میں اعتدال پسندی کا واحد علم بردار کہا جاتا ہے اور جو لوگ انہیں قریب سے جانتے ہیں، ان کا کہنا ہےکہ تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود وہ آج بھی نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں حزب اختلاف کے رہنما جب بھی کسی مسئلہ پر حکمران جماعت کو نشانہ بناتے ہیں، یہ ذکر ضرور ہوتا ہےکہ مسٹر واجپئی بذات خود تو اچھے آدمی ہیں، لیکن اپنی سیاسی جماعت سے مجبور ہیں۔

ایودھیا میں بابری مسجد کی مسماری کے بعدمسٹر واجپئی نے جب انتہائی سخت الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی تو مبصرین کا خیال تھا کہ وہ پارٹی کی شدت پسند قیادت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واجپئی
ان کا شمار موجود بھارتی سیاسی قیادت میں سے بہتر مقرروں میں ہوتا ہے
لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ شدت پسند قیادت ان پر حاوی ہوگئی۔ کچھ عرصے تک مسٹر واجپئی سیاسی پس منظر میں چلے گئے لیکن بی جے پی کی اعلی قیادت کو جلدی ہی یہ احساس ہو گیا کہ ان کے بغیر مرکز میں حکومت سازی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

بہر حال، عام خیال یہ ہے کہ بی جے پی کی ہندو پرست پالیسیوں کے باوجود مسلمانوں میں بھی مسٹر واجپئی کے مداحوں کی کمی نہیں ہے۔

لیکن مسٹر واجپئی کے مخالفین کہتے ہیں کہ ان کی سیاسی پرورش شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے سائے میں ہوئی ہے اور وہ سیاسی حکمت عملی کے تحت اپنے اصل فسطائی نظریات چھپانے کے لئے اعتدال پسندی کا خول پہنے رہتے ہیں۔

کہنا مشکل ہے کہ اس الزام میں کتنی صداقت ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی شخصیت کے میانہ رو تصور کی وجہ سے ہی وہ تیں مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ اس سے قبل یہ اعزاز صرف بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو حاصل تھا۔

بحیثیت خطیب اور مدبر بی جے پی میں بظاہر مسٹر واجپئی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ بھارت میں ایمرجنسی کے دور کے بعد 1977 میں جب جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت بنی تو اٹل بہاری واجپئی کو وزارت خارجہ کی ذمیداری سونپی گئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ ایک کامیاب وزیر خارجہ ثابت ہوۓ اور یہ کہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کےساتھ دوستانہ تعلقات کے حامی رہے ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم ان کا لاہور کا تاریخی سفر اسی سلسلے کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے۔

لیکن اس کےبر عکس، کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان سے تعلقات کشیدہ تو تھے لیکن 1998 میں مسٹر واجپئی کی سربراہی میں بھارت نے جب جوہری دھماکے کئے تو حالات زیادہ بگڑ گئے۔

فروری 1999 میں مسٹر واجپئی نے اچانک یہ اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی پہلی بس پر امن کا پیغام لیکر لاہور جائیں گے۔ ان کے اس فیصلے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بحالی کے امکانات روشن ہوگئے اور دنیا بھر میں ان کی اس پیش قدمی کی ستائش کی گئی۔

لاہور کے سفر سے مسٹر واجپئی کی ذاتی زندگی میں بھی ہل چل آئی۔ ایک پاکستانی ادیبہ نے ان سے اس شرط پر شادی کرنے کی پیش کش کی کہ وہ کشمیر پر اپنا دعوی ترک کر دیں۔ مسٹر واجپئی نے اپنی زندگی مجردی میں گزاری ہے لیکن شاید سیاسی تقاضے اور قومی مفاد ہند پاک اشتراک کی اس دلچسپ پیش کش کو قبول کرنے کی راہ میں حائل آ گۓ۔

بہرحال، لاہور کے سفر کے چند ہی مہنوں بعد جب کارگل کی برفیلی پہاڑیوں پر بقول بھارت پاکستانی فوج نے قبضہ کیا تو ہمسایہ ملک کے تئیں ان کی مبینہ نرم پالیسی شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنی۔ گزشتہ برس 13 دسمبر کو بھارتی پارلیمان پر مشتبہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد مسٹر واجپئی زبردست دباؤ میں آگئے تھی اور بعض مبصرین کا خیال تھا کہ پاکستان کے خلاف جنگ ان کے لیے ایک سیاسی مجبوری بن سکتی ہے۔

مسٹر واجپئی 1924 میں بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پر دیش کے ایک براہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں جدوجہد آزادی کے دوران وہ مختصر مدت کے لۓ جیل گئے لیکن اس کے بعد انہوں نے برطانوی حکمرانی کے خلاف تحریک میں کوئی اہم رول ادا نہیں کیا۔ ان پر رہ رہ کر یہ الزام لگایا جاتا ہےکہ جیل سے رہائی کے لئے انہوں نے برطانوی حکومت سے تحریری طور پر معافی مانگی تھی لیکن اس سلسلے میں کبھی کوئی ثبوت منظر عام پر نہیں آیا۔ مسٹر واجپئی خود اس الزام کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔

قانون کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ کر ہندہ قوم پرست تنظیموں کی جانب مائل ہونے سے پہلے وہ مختصر مدت کے لئے کمیونسٹ نظریہ کی جانب راغب ہوئے۔

کچھ عرصہ آر ایس ایس کے ایک جریدے سے وابستہ رہے اور 1957 میں جن سنگھ کے امیدوارکی حیثیت سے بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں کے لیے چنے گئے ۔ نو انتخابی کامیابیوں کے بعد وہ اس وقت لوک سبھا کے سینئر ترین رکن ہیں۔ اقتدار کی جانب ان کا سفر 1980 مییں شروع ہوا جب مسٹر لال کرشن ایڈوانی کے ہمراہ انہوں نے بی جے پی کی بنیاد ڈالی۔ ان کی کوشش تھی کے بی جے پی کو آر ایس ایس اور سابقہ جن سنگھ کی ہندو پرست پالیسی سے آزاد جماعت کے طور پر پیش کیا جاۓ لیکن 1984 کے عام انتخابات میں نہ صرف بی جے پی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، وہ خود بھی اپنی سیٹ ہار گۓ۔
ان کی شکست کےبعد جب پارٹی کی باگ ڈور مسٹر ایڈوانی کے ہاتھوں میں آئی تو یہ کہا جانے لگا کہ ان کا سیاسی کیریر ختم ہو گیا ہے۔ لیکن 1996 میں بی جے پی ہندوتو کی لہر سے استفادہ کرتے ہوۓ لوک سبھا میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری اور مسٹر واجپئی پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ ان کی پہلی حکومت صرف 13 دن اور دوسری 13 مہینے چلی لیکن ان کا موجودہ دور اقتدار، جو 1999 میں شروع ہوا تھا، قدرے مستحکم اور دیر پا ثابت ہوا ہے۔
اگرچہ ان کی مخلوط حکومت مستحکم نظر آتی ہے، خود ان کی اپنی صحت باعث تشویش ہے۔ گذشتہ برس ان کے دونوں گھٹنوں کا آپریشن ہوا اور اس سے پہلے ان کا ایک گردہ بھی نکالا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اخبارات میں یہ قیاس آرائی ہوتی رہتی ہے کہ وہ امراض قلب میں بھی مبتلا ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسٹر واجپئی ایک کمزور رہنما ہیں جو جذبات کی رو میں بہ جاتے ہیں اور یہ کہ حکومت در حقیقت وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی چلاتے ہیں۔ لیکن مسٹر واجپئی اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہیں: ” یہ مت بھولیےکہ میں اٹل ( اپنے موقف پر ڈٹا رہنے والا) بھی ہوں اور بہاری بھی”۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد