کون جیتا کون ہارا، بحث شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر میں چار مختلف مرحلوں میں جدید مشینوں کے ذریعے ہونے والی ووٹنگ کے بعد اب ان ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے اور سب کی نگاہ نتائج پر ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر متوقع تنائج کے خوف سے اتحادوں کے پسینے چھوٹ رہے ہیں سوموار کی ختم ہونے والے پانچویں مرحلے تک 67 کروڑ پچاس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے چھپن فی صد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔ انتخابات کے لیے استعمال ہونے والے جدید تر طریقے کے مطابق گنتی شروع ہونے کے محض چند ہی گھنٹے کے بعد تمام نتائج سامنے آ جائیں گے۔ سخت گرمی اور لو کی شدت میں انتخابی مہم چلانے اور بھاگ دوڑ سے نجات پاکر اب ملک کے اکثر بڑے رہنما دارالحکومت یا تو دلی پہنچ چکے ہیں اور یا آہستہ آہستہ دلی پہنچ رہے ہیں۔ انتخابی نتائج ، نئی حکومت کی تشکیل اور نئے اتحادیوں کی تلاش جیسے کئی مشکل مسائل کے سبب یہ لیڈر انتہائی بے تابی کی حالت میں ہیں۔ اس اندیشے سے کہ شاید نتائج ایک معلق پارلیمنٹ کو سامنے لائیں حکمراں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ اور اپوزیشن کانگریس نے مرکز میں نئی حکومت سازی کے لیے پس پردہ کوشیشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جہاں مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما ہرکشن سنگھ سرجیت سمیت کئی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے تو وہیں خود مسٹر سرجیت نے بھی اس سلسلے میں کئی رہنماوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ادھر حکمراں جماعت بی جے پی نے بھی شدت سے نئے اتحادیوں کی تلاش شروع کر دی ہے اطلاعات کے مطابق پارٹی نے اپنی نئی حکمت عملی طے کرنے کے لیے غور وفکر کیا ہے اور اس سلسلے میں اس نے سبھی دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جب کہ دونوں ہی بڑے محاذ نئے سیاسی حلیفوں کی تلاش میں ہیں سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی، نیشنل لوک دل اور آسام گن پریشد جیسی علاقائی جماعتیں بھی انتخابی نتائج کا شدت سے انتظار کر رہی ہیں جنہوں نے انتخابات سے قبل کسی بھی جماعت سے سمجھوتہ نہیں کیا تھا لیکن اب وہ حکومت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں ان جماعتوں کے پاس جتنی زیادہ سیٹیں ہوں گیں وہ اتنا ہی اہم رول وہ ادا کریں گی۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی ان جماعتوں کو اپنی صف میں لانے کی پُر زور کوشیشیں کر رہی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہیں کہ کون پارٹی کس کا ساتھ دے گی لہذا این ڈی اے اور کانگریس دونوں ہی نظریں علاقائی پارٹیوں پر جما ئے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||