
کنٹرول لائن پر تصادم کا دعوی کیا گیا ہے
بھارتی فوج کی شمالی کمان نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کے زیرِ انتظام علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران فوج سے تصادم میں دو مسلح عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
مقامی پولیس نے جنوبی ضلع پونچھ میں ہوئے اس تصادم کی تصدیق کی ہے۔
پونچھ کے پولیس سربراہ شمشیر سنگھ منہاس نے بتایا کہ ’دو مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا لیکن ان کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی‘۔
بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل پالٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خاص آلات کی مدد سے پتہ چلا کہ چار یا پانچ مسلح افراد کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر ہمارے جوانوں نے فائر کیا‘۔
کرنل پالٹا کے مطابق دو مسلح عسکریت پسندوں کی لاشیں باردوی سرنگوں کے علاقے میں پائی گئیں اور جائے واردات سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
"صدر ہند کو چاہیئے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لئے بھارتی پالیسی سازوں کو ہٹ دھرمی ترک کرنے کی صلاح دیں۔"
سید گیلانی
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے راستے مسلح افراد کی دراندازی کا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے چند ہفتوں میں کم از کم چوبیس ایسے عسکریت پسند کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ہلاکتوں کا یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں بھارتی صدر کے دورے کے خلاف ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس ہڑتال کی کال علیحدگی پسندوں، طلباء، وکلاء اور مسلح گروپوں نے دی ہے۔
صدر پرنب مکھرجی نے جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی میں کانووکیشن سے خطاب کے دوران کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ’بھارت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں‘۔
علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ہڑتال کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’صدرِ ہند کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھارتی پالیسی سازوں کو ہٹ دھرمی ترک کرنے کی صلاح دیں‘۔'






























