
کشمیر میں متنازعہ فلم کے خلاف مظاہرہ کرتی ہوئی خواتین
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے بعد پولیس نے سرینگر کے چند علاقوں میں دن بھر کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کشمیر کے اہم ترین شہر سرینگر میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور کئی جگہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ دختران ملت کے بینر تلے تقریباً تیس خواتین جلوس لے کر جا رہی تھیں اور وہ ’امریکہ مردہ آباد‘ کے نعرے لگا رہی تھیں جب ان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔
ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں دو جگہوں پر پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی اور ڈنڈوں کا سہارا لیا۔
دوسری جانب بھارتی دارالحکومت دلی میں امریکی سفارت خانہ کو فلم تنازعے اور اس کے خلاف مظاہرے کے پیش نظر جمعہ کو بند رکھا گیا ہے۔
سفارتخانے کے ذرائع نے بتایا کہ کسی قسم کے مظاہرے یا ’غیر متوقع حالات‘ سے بچنے کے لیے سفارتخانے کے عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے کہا ہے کہ دلی میں موجود امریکی سفارتخانے کے سکول میں بھی آج تعطیل کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
جبکہ امریکہ نے بھارت آنے والے اپنے شہریوں سے احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
یہ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر کی انتظامیہ ، علیٰحدگی پسند گروپ اور مذہبی تنظیمیں امریکہ میں بنی ایک متنازعہ فلم کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی حمایت کررہی ہیں۔
پاکستان کی کال پر جمعہ کے روز بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گئے، جبکہ سری نگر کے بعض حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے پہلے سے ہی جمعہ کو سکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ریاستی کابینہ کا اجلاس طلب کرکے حکومت کی طرف سے اسلام مخالف فلم کی مذمت کی تھی۔
اس سے قبل منگل کو کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے تھے جس کے دوران ایک سرکاری گاڑی کو بھی نذرآتش کیا گیا۔






























