
ہڑتال سے کشمیر میں دکانیں اور تعلیمی مراکز بند ہیں
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں منگل کو اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے لیے ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ہڑتال کی کال بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی بعض مذہبی انجمنوں نے دی تھی۔
ان انجمنوں کے اتحاد علمائے احناف کے سربراہ غلام رسول ہامی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے وہ نئی دلّی میں اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
ہڑتال کے دوران سرینگر اور دوسرے قصبوں میں نوجوانوں نے شاہراہوں پر آگ جلاکر رکاوٹیں کھڑی کیں اور گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا۔
غلام رسول ہامی اور ان کے ساتھیوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران علیحدگی پسندوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے امریکہ کے خوف سے اسلام مخالف ویڈیو پر مصلحت سے کام لیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ علیحدگی پسندوں نے اس متنازع ویڈیو کے خلاف گزشتہ جمعہ کو احتجاج کی کال دی تھی۔ اس کال پر بعض مقامات پر احتجاج ہوا تھا۔
مسئلہ کشمیر کی تاویل کے بارے میں یہاں کے مذہبی اور سیاسی گروپوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اسلام اس وقت تک محفوظ نہیں جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکتا۔
لیکن علمائے احناف، جو چند سال سے ہی زیادہ سرگرم ہے، اور دوسری مذہبی انجمنوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک خالص سیاسی مسئلہ ہے، لہذا اسلامی امور کو اس کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔
بعض مبصرین کہتے ہیں حکومت ہند کے پالیسی سازوں کو یقین ہے کہ کشمیر میں صوفی اسلام کے ذریعہ علیحدگی پسندانہ رجحان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
دریں اثنا ہڑتال کی وجہ سے وادی میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔






























