عسکریت پسند کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شمال میں ہندوارہ قصبہ میں فوج نے مسلح عسکریت پسندوں سے تصادم کے بعد لشکر طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور فوج نے مشترکہ کارروائی کے تحت راجوار علاقہ میں محمد رمضان حجام کے مکان کا محاصرہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مکان کےگاؤ خانہ میں چھپے مسلح عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی کے بعد جمعہ کی صبح ایک جھلسی ہوئی لاش برآمد ہوئی اور اس کے نزدیک ایک رائفل اورگولیاں بھی ملیں۔
پولیس اور فوجی حکام کو شبہ ہے کہ مارا گیا شخص دراصل لشکر طیبہ سے وابستہ ایک اعلیٰ کمانڈر حنزلہ ہے جو کئی سال سے شمالی کشمیر میں فوج مخالف کاروائیاں انجام دے رہا تھا۔
فوج کے میجر جنرل شرد چند نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اگر یہ وہی حنزلہ ہے جس کے بارے میں ہمیں اطلاع ملی تھی، تو یہ واقعی بہت بڑی کامیابی ہے‘۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ تصادم کے دوران فوج نے باون ایم ایم مارٹر گولوں کا استعمال کیا ج سکی وجہ سے محمد رمضان کے مکان کو نقصان پہنچا اور اس کا گاؤ خانہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
شمالی کشمیر کے ہندنواز سیاسی رہنما عبدالرشید شیخ نے اس واقعہ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ کشمیر میں عسکری کارروائیوں کا مطلب ہے کہ ابھی بھی یہاں مسلح مزاحمت موجود ہے اور حکومت کے دعوے کہ یہاں حالات بالکل ٹھیک ہوگئے ہیں، خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں‘۔
دریں اثنا سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد نوجوانوں نے حالیہ ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے نیم فوجی اہلکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور فورسز اہلکاروں نے ہوا میں فائرنگ کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُدھر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں پولیس نے چند کم سن لڑکوں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قصبہ میں حالیہ دنوں ہوئے بم دھماکوں کی سازش میں انہیں ملوث پایا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کی وجہ سے قصبہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔







