
پولیس کا کہنا ہے کہ فوج کے ایک اہلکار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے
بھارت کے زیرانتظام کشمیرمیں فوج نے مبینہ طور پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز ویڈیو دکھائے ہیں جس کےبعد لولاب نامی قصبے میں سینکڑوں طلباء اور نوجوانوں نے فوج کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ بھارتی فوج کے ایک افسر نے رابطہ عامہ کے تحت لولاب کے ایک سکول میں کچھ ویڈیوز دکھائے جن میں پیغمبرِ اسلام اور ان کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو قابل اعتراض حالت میں دکھایا گیا ہے۔
فوجی ترجمان نے اس بارے میں ردعمل سے انکار کردیا ہے۔ تاہم پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیپ ٹاپ اور پروجیکٹر ضبط کئے گئے ہیں۔ پولیس نے بھارتی فوج کی پندرہویں کور سے وابستہ فوجی افسر میجر رِتک کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ میجر رِتک نے لولاب کے بوائز ہائی سکول میں رابطہ عامہ کی ایک تقریب کے دوران لوگوں کے سامنے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں ایک فلم چلائی جسے لوگوں اور سکول کے پرنسپل نے قابل اعتراض قرار دیا۔ اس کے بعد لوگوں اور طلبا نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
واضح رہے لیبیا میں ایک امریکی شہری کی متنازعہ فلم کے خلاف تشدد بھڑک اُٹھا تھا۔ اسی فلم کے خلاف یہاں کے علیٰحدگی پسند لیڈروں نے جمعے کی نماز کے بعد مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ سید علی گیلانی کو گھر میں نظر بند کیا گیا ہے جبکہ یٰسین ملک اور جاوید میر کو لال چوک میں احتجاجی مارچ سے قبل گرفتار کیا گیا۔
کشمیر کی اسلامی تنظیموں نے برملا امریکہ مخالف لہجے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں اسلام کے خلاف منافرت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔






























