کشمیر: مسجد میں تصادم، ایک ہلاک

مسلکی تصادم کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمسلکی تصادم کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تمام مسلک کے علماء کی طرف سے رواداری اور اتحاد کی قرارداد منظور کیے جانے کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی ایک مسجد میں دو گروہوں کے درمیان تصادم ہواہے۔

اس واقعے میں جماعت اسلامی سے وابستہ ایک کارکن ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وسطی ضلع گاندربل کی ایک مسجد میں بریلوی فکر اور جماعت اسلامی سے وابستہ نوجوانوں کے درمیان پچھلے چھ ماہ سے کشیدگی پائی جاتی تھی۔

گاندربل کے ایک رہائشی عرفان احمد نے بتایا کہ ’پیر کو ظہر کی نماز کے بعد بریلوی مکتب فکر کے نوجوانوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسجد میں بجلی کے نظام میں جان بوجھ پر خرابی پیدا کی۔ اس پر دونوں گروہوں میں ہاتھا پائی ہوگئی اور جماعت اسلامی کے شبیر احمد بٹ شدید زخمی ہوگئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے وہ چل بسے‘۔

اس تصادم میں تین افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد پوری وادی میں کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے۔ حکام نے گاندربل کی سندھ بل بستی میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے اضافی دستے تعینات کر دیے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت کی خفیہ ایجنسیاں مختلف مسالک کے درمیان محاذآرائی کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔

اسی دوران جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے اتوار کو بریلوی، اہل تشیع، حنفی اور شافی مسالک سے وابستہ تمام اکابر اور علماء کی مشترکہ کانفرنس کا اہتمام کیا۔

اس کانفرنس کے آخر پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایک دوسرے کے مسالک کو تسلیم کر کے مخالفتوں سے اجتناب کرنے کا عہد کیا گیا۔