کشمیر میں دراندازی: پولیس اور فوج میں تضاد؟

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

بھارتی فوج کشمیر سے نکلنا نہیں چاہتی اس لیے پولیس کے خلاف بیان دیتی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو پاکستانی کنٹرول والے کشمیری خطوں کے ساتھ ملانی والی سات سو چالیس کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول کے ذریعہ مسلح دراندازوں کی بھارتی علاقے میں دراندازی کا معاملہ پولیس اور فوج کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

جموں کشمیر پولیس نے بھارتی فوج کے اُن دعوؤں کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے چند ماہ میں کنٹرول لائن کے ذریعہ مسلح دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

کشمیر میں مسلح شورش کی تازہ صورتحال کے بارے میں پولیس اور فوج کے بیانات میں کئی سال سے تضاد پایا جاتا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی حمایت سے کنٹرول لائن کے دوسری جانب سینکڑوں مسلح نوجوان بھارتی علاقہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں اور انہیں وقفہ وقفہ سے مختلف سیکٹروں کے ذریعہ کشمیر میں داخل کرایا جاتا ہے۔

اس دعوے کی برملا تردید سب سے پہلے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو کشمیر کے حالات سے متعلق جنگی سوچ سے اوپر اُٹھ کر تجزیہ کرنا چاہیئے۔ دراصل ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیرمیں فوجی قوانین کو ہٹایا جائے۔ اس کے لیے وہ صورتحال میں واضح تبدیلی کا جواز پیش کرتے ہیں۔

مسٹر عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اب لوگ غیرمسلح مظاہرے کرتے ہیں اور ہر سال لاکھوں سیاح اور ہندو یاتری آتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تجارت اور صنعت و حرفت کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔

لیکن بھارت کی وزارت دفاع اس سب کو ایک وقتی تبدیلی کہتی ہے اور فوجی جنرلوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں بھارت مخالف پراکسی وار کے اپنے دیرینہ منصوبے پر اب بھی عمل کر رہا ہے۔

عام لوگوں کے لیے اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے کوئی نمایاں معیار نہیں ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات مسلح نوجوان فوج کے ساتھ تصادم میں مارے بھی جاتے ہیں۔ لیکن آج کل یہاں رونما ہونے والی اکثر وارداتوں پر شبہات ظاہر کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور حالیہ دنوں میں فوج نے دعویٰ کیا کہ شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں دراندازوں کو ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔

کشمیر میں دراندازی کے تعلق سے فوج اور پولیس کے بیانات میں تضاد ہے

اس حوالے سے انسانی حقوق کے لیے سرگرم انجمنوں کے اتحاد جے کے سی سی ایس نے انکشاف کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں ایک کشمیری نوجوان ہے جو تیرہ سال بعد سرینڈر کرنے کی غرض سے کنٹرول لائن عبور کر رہا تھا۔

سی سی ایس کے ترجمان خرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا: ’اس کے کنبے نے مقامی انتظامیہ کو درخواست بھی دی اور اوڑی میں فوج و پولیس حکام سے بھی رابطہ کیا۔ لیکن فوج اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ مارے جانے والے سبھی نوجوان غیرملکی تھے۔‘

دریں اثنا تشدد کی بعض وارداتوں کی تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلا تھا کہ پولیس کے کچھ اہلکار بھی مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ اس انکشاف کے بعد کشمیر کے سابق گورنر ایس کے سنہا نے یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ لاکھ مسلح افراد پر مشتمل جموں کشمیر پولیس میں پچاس فیصد لوگ عسکریت پسندوں کے حامی ہیں۔

اس الزام کی تردید میں پولیس کے سربراہ اشوک پرساد اور انسپکٹر جنرل ایس ایم سہائے نے سخت بیان دیا۔

خرم پرویز اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم دیگر کئٰی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات کی متضاد تاویلات کر کے لوگوں کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔

خرم پرویز کہتے ہیں: ’پولیس اور فوج کے درمیان اختیارات کی جنگ میں عام لوگ خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ حقائق کو مینوپولیٹ کرکے صورتحال کو اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ موجودہ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو فوجی قوانین کی مخالفت کرنے کے سبب ہی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کے دورِ اقتدار میں ہی فوجی قوانین کا خاتمہ ہوگا۔

لیکن فوج اور اسکی خفیہ ایجنسیاں اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس یہاں امن کی واپسی کو ثابت کرنے میں مصروف ہے اور فوج دراندازی کے واقعات بیان کر کے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ فوجی قوانین کی ضرورت موجود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>