کشمیر: امریکی فوجی وردیوں کی خریداری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 08:38 GMT 13:38 PST
کشمیر میں فروخت ہونے والی امریکی فوجیوں کی وردیاں

کشمیر میں فوجی وردیوں کی خرید و فروخت پر کئی سال سے پابندی عائد ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں آج کل عام لوگ اور پولیس اہلکار شوق سے امریکی وردیاں خرید رہے ہیں۔

امریکہ میں بنی اسلام مخالف فلم کے خلاف کئی روز تک احتجاجی مظاہروں کے بعد اتوار کو سرینگر کے لنڈا بازار یا استعمال شدہ اشیا کے بازار میں لوگ شوق سے امریکی فوجیوں کی پرانی وردیاں خریدتے نظر آئے۔

کشمیر میں کسی بھی فوجی وردی کی خرید و فروخت پر پابندی ہے، لیکن پرانے کپڑوں کی فروخت کے لیے خاص سنڈے مارکیٹ میں امریکی بری فوج اور فضائیہ کی وردیاں ہاتھوں ہاتھ بِک رہی ہیں۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نے بھی امریکی فضائیہ کی ایک جیکٹ خریدی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی وردی پہننے کا شوق ہر پولیس والے کو ہوتا ہے۔ اس جیکٹ کی وجہ سے میں پراعتماد محسوس کرتا ہوں۔‘

یہ وردیاں بیچنے والے نوجوان نے براہ راست بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک دکان دارنے بتایا کہ ’میں تین ماہ سے یہ وردیاں بیچ رہا ہوں۔ اکثر پولیس والے اور کم عمر لڑکے یہ خریدتے ہیں۔ پولیس انسپکٹر امریکی پرچم کا لوگو لگی جیکٹ شوق سے خریدتے ہیں۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں فوجی وردیوں کی خریدوفروخت پر کئی سال سے پابندی عائد ہے۔

فوج اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ عسکریت پسند یہ وردیاں پہن کر فوجی تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

"امریکی وردی پہننے کا شوق ہر پولیس والے کو ہوتا ہے۔ اس جیکٹ کی وجہ سے میں پراعتماد محسوس کرتا ہوں۔"

ایک پولیس اہلکار

پچھلے چند سال سے ہرے اور سیاہ رنگ کی آمیزش سے بنے فوجی طرز کے لباس نوجوانوں میں عام ہو رہے ہیں۔

خاص طور سے ایسی پتلون (کارگو) کا تو کالج طلبا میں عام رواج ہے۔ چند ہفتے قبل ایک کالج میں اسی طرز کے لباس پر پرنسپل نے پابندی عائد کی تو طلبا نے ہنگامہ کیا۔

استعمال شدہ کپڑوں کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ امریکی فوج کی پرانی وردیاں دراصل ممبئی اور بنگلہ دیش کی بندرگاہوں پر افغانستان اور مشرقی یورپ سے درآمد ہوتی ہیں۔

’امریکی پرچم یا امریکی فوج کی وردری ایک عالمی برانڈ ہے۔ ایشیا کے بعض ممالک خاص طور پر جنوبی ایشیا کے لوگ اس برانڈ کو پسند کرتے ہیں۔ ہم لوگ بڑے کنٹینرز میں یہ وردیاں تھوک کا کاروبار کرنے والے تاجروں سے خریدتے ہیں، اور بعد میں اسی طرح کے بازاروں میں سپلائی کرتے ہیں۔‘

قابل ذکر بات ہے کہ ’مسلمانوں کی معصومیت‘ کے عنوان سے امریکی فلم ساز کی اسلام مخالف فلم پر پوری مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی مظاہرے ہوئے، تاہم یہاں کوئی جانی نقصانی نہیں ہوا۔

مذہبی انجمنوں نے امریکی اشیا کا مسلم دنیا میں بائیکاٹ کروانے کے لیے مسلم ممالک کے سفارتکاروں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کاروان اسلامی کے سربراہ غلام رسول ہامی نے بتایا کہ انہوں نے خلیجی ممالک کے ساتھ پہلے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔

"امریکی پرچم یا امریکی فوج کی وردری ایک عالمی برانڈ ہے۔ ایشیا کے بعض ممالک خاص طور پر جنوبی ایشیا کے لوگ اس برانڈ کو پسند کرتے ہیں۔ ہم لوگ بڑے کنٹینرز میں یہ وردیاں تھوک تاجروں سے خریدتے ہیں، اور پرچون کے لئے اسی طرح کے بازاروں میں سپلائی کرتے ہیں"

ایک کشمیری تاجر

واضح رہے فوجی وردیوں کے استعمال پر پابندی سے متعلق حکومت نے پولیس حکام کو بھی مطلع کیا ہے۔

ڈویژنل کمیشنر اصغرحسین سامون نے بتایا’پولیس بہت بڑا ادارہ ہیں، یہاں ہزاروں لوگ ہیں۔ لیکن ہم نے انہیں مطلع کیا ہے کہ باقاعدہ وردیوں کا ہی استعمال کیا جائے۔‘

کشمیر میں پچھلے سولہ سال سے کشمیر پولیس کی ایک خصوصی شاخ ’سپیشل آپریشن گروپ‘ یا ایس او جی کے نام سے سرگرم ہے۔

ایس او جی کے افسر اور اہلکار اکثر بنا وردی کے ہوتے ہیں، یا اپنی من پسند کمانڈو وردی کا استعمال کرتے ہیں۔ پولیس یا فوج کے لیے کام کرنے والے سابق عسکریت پسندوں کی بھی کوئی واضح وردی نہیں ہوتی اور وہ بھی سادہ کپڑوں پر ایسے ہی بازاروں سے خریدی گئی امریکی فوجی جیکٹ پہنتے ہیں۔

انسانی حقوق کے مقامی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کیے جانے والے سابق عسکریت پسندوں کو باقاعدہ پولیس میں بھرتی کرے اور پولیس فورس میں باقاعدہ وردی کے لیے ضابطوں کو سختی سے نافذ کرے۔

سماجی رضاکار عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ’کوئی بھی شخص محض کسی پولیس والے کے ساتھ مراسم ہونے کے بل پر امریکی جیکٹ پہنتا ہے اور لوگوں کو دھمکاتا ہے۔ اگر حکومت کہتی ہے کہ جنگی صورتحال ختم ہوگئی ہے، تو پولیس کو ضابطوں کا پابند بنایا جائے۔‘

امریکی وردیاں بیچنے والا نوجوان صورتحال کے ان پہلوؤں سے واقف نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مال محض منافع کی غرض سے خریدا تھا۔

’مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس پر پابندی ہے،کیونکہ ایک تاجر نے کہا پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایسی وردیاں لوگ شوق کے طور پر کھلے عام پہنتے ہیں اور جب پولیس والے بھی خریدنے لگے تو مجھے لگا میں صحیح کام کر رہا ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>