
بھارتی صدر بدھ کی شام کو سرینگر پہنچنے والے ہیں
بھارتی صدر پرنب مکھرجی کشمیر کا تین روزہ دورہ بدھ کے روز سے شروع کررہے ہیں لیکن اس اہم دورے پر کشمیر میں ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔
اس پس منظر میں حکومت نے سکیورٹی پابندیوں کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر پرنب مکھرجی کا خصوصی طیارہ بدھ کی شام سرینگر کے فوجی ہوائی اڈے پر اترےگا۔ گورنر، وزیر اعلیٰ اور فوج و پولیس کے اعلیٰ افسران کا استقبال کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارتی صدر کشمیر کی سب سے پرانی دانشگاہ کشمیر یونیورسٹی میں جمعرات کو سالانہ کانووکیشن کا افتتاح کریں گے۔ لیکن سرکاری طور پر کالعدم قرار دی گئی کشمیر سٹوڈنٹس یونین یا ’کُوسُو‘ نے اس سلسلے میں یوم سیاہ منانے اور مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے جمعرات کو مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ وکلاء اور پاکستان میں مقیم عسکری گروپوں کے اتحاد جہاد کونسل نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ان اپیلوں کے پیش نظر سرینگر اور یونیورسٹی کے گردونواح میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے کشمیر یونیورسٹی کے ہاسٹلوں سے سکالروں اور طلبا کو منتقل کردیا ہے اور اونچی عمارتوں پر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا۔
طلباء یونین نے فیس بُک پر اپنی تازہ پوسٹ میں لکھا ہے ’جس فوج نے ہمارے دوستوں کو جوابدہی کے کسی احساس کے بغیر قتل کردیا، اسی فوج کے سپریم کمانڈر کا استقبال ہم کیسے کریں گے۔ ہمیں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہیے۔‘
"جس فوج نے ہمارے دوستوں کو جوابدہی کے کسی احساس کے بغیر قتل کردیا، اسی فوج کے سپریم کمانڈر کا استقبال ہم کیسے کرینگے۔ ہمیں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہیئے۔"
سرینگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق کانووکیشن میں شرکت کرنے والے ہر طالب علم کی تلاشی لی جائے گی۔
ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی بار جب نائب صدر آئے تھے تو کچھ طلباء بھارتی قومی ترانے کے وقت بیٹھے رہے۔ گورنر نے اس حرکت کو بھارتی قومی ترانے کی تذلیل قرار دیا۔‘
دوسری جانب کشمیر کی ستاسی رکنی قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید نے صدر کی آمد پر سرینگر میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ صدر سے مطالبہ کرینگے کہ وہ پارلیمنٹ پر حملے میں مجرم قرار دیےگئے افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا معاف کریں۔
قابل ذکر ہے کہ صدر کی آمد سے چند گھنٹے قبل ہی افضل گورو کی پچھتر سالہ والدہ شمالی کشمیر کے آبائی گاؤں دآبگاہ میں انتقال کرگئیں۔ انہوں نے میڈیا انٹرویوز میں اپنے بیٹے کے لیے صدر سے رحم کی اپیلیں کی تھیں۔
بدھ کی شام گورنر نریندر ناتھ نے صدر ہند کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔ جمعرات کو یونیورسٹی کانووکیشن کے بعد صدر مکھرجی مشہور جھیل ڈل کی سیر کریں گے اور دیر رات حکومت کے تجویز کردہ بعض قلم کاروں اور دانشوروں کے ساتھ ملاقات کرینگے۔






























