دلائی لامہ کشمیر کےدورے پر

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہNigel Stead LSE

،تصویر کا کیپشندلائی لامہ کشمیر میں کئی اجتماعات سے خطاب کریں گے

ہندوستان میں ساٹھ سال سے مقیم جلا وطن تبّتی رہنما دلائی لامہ نے بدھ کے روز سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کا طویل دورہ شروع کر دیا ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور ان کی کابینہ کا اراکان نےایئرپورٹ پر دلائی لامہ کا خیرمقدم کیا اور بعد میں ان کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیاگیا۔

اپنے قیام کے دوران تبّتی رہنما سرینگر اور لداخ میں بدھ اور مسلم تبتیوں کے اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

سرینگر میں کئی سیمیناروں اور مذہبی اجتماعات سے خطابات کے علاوہ جولائی کے آخری ہفتے میں دلائی لامہ لداخ خطے میں دراس اور زانسکار مقامات پر بدھ عقائد سے متعلق خاص تبلیغ کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں تبّتی مہاجرین کے ڈھائی سو کنبے آباد ہیں۔ قریب ڈیڑھ ہزار تبتیوں میں سے تقریباً سبھی نے مذہب اسلام قبول کرلیا ہے۔ لیکن وہ آج بھی جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گو کہ ان سبھی کی مادری زبان تبتی ہے، لیکن وہ آسانی سے اُردو بولتے ہیں۔ انہیں تبتی کہلانا پسند نہیں۔ سرینگر کے کلائی اندر، عیدگاہ اور بادام واری علاقوں میں یہ کبنے رہائش پذیر ہیں۔ دلائی لامہ انہی تبتی مسلمانوں کے ایک سکول کا بھی افتتاح کریں گے۔

واضح رہے کہ اُنیس سو ساٹھ میں تبّت پر چین کے مبینہ قبضے کے بعد سے دلائی لامہ اور ان کے ساتھیوں نے بھارت میں پناہ لی تھی۔ شمالی بھارت میں تبّت کی جلاوطن حکومت پچھلے چالیس برس سے قائم ہے۔ اسی حکومت کی سربراہی سے پچھلے سال دلائی لامہ رضاکارانہ طور فارغ ہوگئے تھے۔

پچھلے سال نئی دلّی اور کلکتہ میں دو الگ الگ بدھ کانفرنسوں کے اہتمام اور ان میں دلائی لامہ کی میزبانی پر چین نے بھارت کے خلاف ناراضی کا اظہار کیاتھا جس کی وجہ سے ہند چین سرحدی تنازعات سے متعلق بات چیت میں تاخیر ہوئی۔

سات جولائی کو ہماچل پردیش کے دھرم شالہ علاقے، جہاں ان کی جلاوطن حکومت قائم ہے، میں دلائی لاما کا ستّرواں یوم پیدائش منایا گیا۔

جون میں لاکھوں لوگوں نے دلائی لامہ کا دعوتی خطاب اٹلی کے شہر میلان میں سُنا۔ دو سال قبل جب دلائی لامہ نے کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا تھا کہ ’کاش بھارت چین سے نمٹنے میں کچھ ہمت کا مظاہرہ کرتا۔‘