گجرات: مذہبی مقامات سے متعلق تفصیل طلب

فسادات کے دوران بلوائیوں نے پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہیں تباہ کردی تھیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفسادات کے دوران بلوائیوں نے پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہیں تباہ کردی تھیں

بھارت کی عدالتِ عظمیٰ نے ریاست گجرات میں سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے فسادات کے دوران مذہبی عمارتوں کی مسماری سے متعلق تفصیل ریاستی حکوت سے طلب کر لی ہے۔

عدالت نے ریاستی حکومت سے فسادات کے دوران تباہ ہونے والے مذہبی مقامات کی مرمت پر آنے والے خرچ سے متعلق معلومات جمع کرانے کو کہا ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے ریاستی حکومت کی اس اپیل کو خارج کر دیا تھا جس میں گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر حکم امتناع کی استدعا کی گئي تھی جس میں حکومت کو فسادات میں تباہ ہونے والی مساجد اور درگاہوں کی مرمت کے لیے معاوضہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ فروری میں یہ حکم دیا تھا کہ ریاستی حکومت گودھرا کے واقعے کے بعد رونما ہونے والے فسادات میں تباہ ہونے والی پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کی تعمیر کے لیے معاوضہ ادا کرے۔

عدالت عظمی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لےگی کہ کيا فسادات کے دوران یا کسی قدرتی آفات کے سبب تباہ ہونے والی مذہبی عمارتوں کی مرمت کے لیے رقم دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے ریاستی ہائی کورٹ نے فسادات کے دوران تباہ ہوئي مساجد اور مزاروں کی مرمت کے لیے حکومت کو پیسہ دینے کو کہا تھا۔

گجرات میں مودی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں نقص ہے ’کیونکہ ملک کے آئین کے سیکولر اصولوں کے تحت کوئی حکومت مذہبی اداروں کو رقم فراہم نہيں کر سکتی۔‘

سپریم کورٹ کے بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی کی درخواست تسلیم نہیں کی تھی اور مودی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ فسادات میں تباہ ہونے والی عبادت گاہوں اور مساجد کی صحیح تعداد اور ان کی تعمیر نو پر آنے والے اخراجات کے تخمینے کی تفصیلات عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کرے۔

عدالت عظمیٰ حکومت سے جاننا چاہتی تھی کہ کیا حکومت نے فسادات کے دوران عبادت گاہوں کو ہونے والے حقیقی نقصانات کا کبھی کوئی جائزہ لیا ہے؟‘

گجرات کے مسلمانوں کی ایک تنظیم اسلامک ریلیف کمیٹی نے سنہ دو ہزار تین میں احمدآباد میں عدالت میں معاوضے کے لیے درخواست داخل کی تھی۔ اسلامک کمیٹی کے مطابق فسادات کے دوران پانچ سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کو تباہ کیا گیا۔

گجرات ہائی کورٹ نے آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مودی حکومت کی سخت سرزنش کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا ’فسادات روکنے میں حکومت کی طرف سے مناسب اقدامات کی کمی، بے عملی اور غفلت کے سبب ریاست میں بڑے پیمانے پر عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘

‏عدالت عالیہ نے منہدم عبادت گاہوں کی تعمیر کا معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ’حکومت نے جب فسادات میں تباہ ہونے والے مکانوں اور دکانو ں کے لیے معاوضہ ادا کیا ہے تو اسے مذہبی عمارتوں کے لیے بھی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ اور اگر ان منہدم عبادت گاہوں کی پہلے ہی تعمیر نو ہو چکی ہے تو ان پرجو بھی اخراجات آئیں ہوں حکومت انہیں ادا کرے۔‘

گجرات ہائی کورٹ نے ریاست کے تمام اضلاع کے پرنسپل ججوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں منہدم عبادت گاہوں کی تفصیل حاصل کریں اور ان کے معاوضے کی تفصیل طےکریں۔ انہیں اس کے لیے چھ مہینے کا وقت دیا گیا تھا۔