بھارت: گجرات فسادات، نو افراد کو سزا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست گجرات میں فسادات کے معاملات کی سماعت کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے تین مسلمانوں کی ہلاکت کے لیے نو ہندوؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
فروری سال دو ہزار دو میں گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کے واقعے کے بعد پوری ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
فسادات کے دوران آنند ضلع کے اوڈ گاؤں میں ہندو برادری کے ایک ہجوم نے دو خواتین سمیت تین مسلمانوں کو جلا کر ہلاک کر دیا تھا۔
اس معاملے میں اکتالیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک ملزم کی موت ہو گئی تھی۔
<link type="page"><caption> گجرات، گودھرا کے چبھتے ہوئے سوالات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2012/02/120228_gujrat_riots_gulbarag_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
عدالت نے نو افراد کو قصوروار قرار دیا ہے اور باقی سبھی ملزموں کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
یہ اوڈ گاؤں کا تیسرا واقعہ ہے جس میں عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔
اس سے قبل عدالت نے اسی گاؤں کے ایک دوسرے علاقے میں فسادات کے دوران تئیس مسلمانون کی ہلاکت کے لیے تئیس ہندوؤں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ وہ معاملات ہیں جن کی سپریم کورٹ کے حکم پر دوبارہ تفتیش کی گئی ہے اور عدالت میں ان کی سماعت سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔
گجرات فسادات کے کئی اہم معاملات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور ان معاملات کے فیصلے جلد ہی آنے والے ہیں۔
ان واقعات میں احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی اور نروڈیہ پاٹیہ کے قتل عام کے معاملات بھی شامل ہیں۔ ان دونوں واقعات میں ڈیڑھ سو سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔







