بھارت، چین سرحدی مذاکرات کا نیا دور

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی حدود کے تنازع پر بات چیت کا نیا دور پیر سے شروع ہو رہا ہے۔
دونوں ممالک ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع سرحد کے متعدد علاقوں پر اپنا حق جتاتے ہیں اور اسی سلسلے میں دونوں کے مابین سنہ انیس سو باسٹھ میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔
چین نے سنہ دو ہزار نو میں اس وقت اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا جب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ انتخابی مہم کے دوران اروناچل پردیش کے علاقے میں گئے تھے۔
اس کے علاوہ نومبر دو ہزار گیارہ میں بھارت میں چین کے سفیر نے ایک ایسے نقشے کی اشاعت پر ناراضگی ظاہر کی تھی جس میں چینی سرحد کے اندر واقع علاقوں کو بھارتی حدود میں دکھایا گیا تھا۔
سرحد کے تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔
تازہ مذاکرات میں چینی وفد کے قائد ریاستی قونصلر دائی بنگو کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلاف کو پسِ پشت ڈال کر چین اور بھارت کے تعلقات میں اضافے کے سنہرے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
بھارتی اخبار دی ہندو میں اپنے مضمون میں چینی اہلکار نے لکھا ہے کہ ’چین کی جانب سے بھارت کو نشانہ بنانے یا بھارت کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی‘۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں بھارت اور چین دونوں کی ترقی کے لیے کافی جگہ موجود ہے اور کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن کر رہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک ’مشترکہ دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کریں گے‘۔
خیال رہے کہ بھارت کا الزام ہے کہ چین کشمیر میں اس کے علاقے پر قابض ہے جبکہ چین شمال مشرقی بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے علاقے پر اپنا حق جتاتا ہے۔







