
حالیہ دنوں میں انّا ہزارے کی مہم پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے
بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والےگاندھیائی رہنما انّاہزارے کی ٹیم میں اختلافات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور اس ٹیم سے الگ ہوئے ایک رکن کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اب سیاسی رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔
اس سے قبل اختلافات کے سبب انّا کی ٹیم کے دو ارکان، میگسیسے انعام یافتہ راجندر سنگھ اور پی وی راجگوپال ان سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
راجندر سنگھ پانی کے مسائل پر اپنے اہم کاموں کے لیے مشہور ہیں اور ان کی خدمات کے لیے انہیں میگسیسے ایوارڈ سے نوازہ جا چکا ہے۔
بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے ٹیم کے ساتھ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ تحریک اب گندی سیاست کی طرف ایک غلط سمت میں جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہانا اور کیجری وال کا رویہ جمہوری نہیں رہا اور وہ پوری تنظیم کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’انّا اور اروند کیجری وال تانا شاہی کر رہے ہیں اسی لیے میں نے اپنے آپ کو ٹیم سے الگ کر لیا ہے۔‘
ان دونوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ لاکھوں لوگ انّا اور کیجری وال کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آئے تھے۔‘
ایک سوال کے جواب میں راجندر سنگھ نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ انّا کی ٹیم کو بی جے پی اور ہندو تنظیم آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے اور اسے چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔
"انّا اور اروند کیجری وال تانا شاہی کر رہے ہیں اسی لیے میں نے اپنے آپ کو ٹیم سے الگ کر لیا ہے۔ ان دونوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ لاکھوں لوگ انّا اور کیجری وال کے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آئے تھے۔"
ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں کانگریس کی مخالفت کرنے کے فیصلے سے وہ آگاہ نہیں تھے اور ٹیم کے اندر فیصلہ کرنے کا طریقہ غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ اروند کیجری وال کا انداز جمہوری نہیں ہے لیکن انہیں روکنے کی ذمہ داری انّا ہزارے پر عائد ہوتی ہے اور انہیں ٹیم کے تمام ارکان کے ساتھ بات چیت کرکے فیصلہ کرنا چاہیے۔ ’انّا ٹیم میں سب سے اوپر ہیں تو پھر کیجری وال تاناشاہی کیسے کر سکتے تھے، غلطی انّا کی ہے اور جو سب سے اوپر ہوتا ہے اسی پر ذمہ داری ہوتی ہے۔‘
راجندر سنگھ نے کہا کہ انّا کی ٹیم اس وقت جو کر رہی ہے اس سے سیاسیت کی بو آتی ہے جبکہ اس کا ایک اہم مقصد اس سے دور رہنا بھی تھا۔ لیکن انہوں نے اس کے لیے اروند کیجری وال کو ذمہ دار ٹھرایا ہے اور کہا کہ ان کے فیصلوں کے سبب اس کی یہ حالت ہوئی ہے۔






























