بدعنوانی کے خلاف تحریک پر اجلاس طلب

،تصویر کا ذریعہap
حکومت نے بدعنوانی کے خلاف سماجی کارکن انا ہزارے کی عوامی تحریک سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے بدھ کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔
لیکن تحریک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال ختم نہیں کی جائےگی۔
یہ اشارے بھی ہیں کہ تحریک کے رہنماؤں سے بھی باضابطہ مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے منگل کو بھی اپنی یہ پیش کش دہرائی تھی کہ وہ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
تحریک کے ایک رہنماء اروند کیجری وال نے کہا کہ حکومت فوری طور پر سیاسی مذاکرات شروع کرے اور اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اسے کل جماعتی اجلاس کے سامنے رکھا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’حکومت وقت ضائع کر رہی ہے، بات چیت ہوگی تو کوئی راستہ نکل سکتا ہے لیکن جب تک یہ عمل شروع نہیں ہوتا، بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔’
غیر سرکاری رابطہ کاروں کے ذریعہ انا ہزارے کے کیمپ سے بات چیت ہوئی ہے لیکن کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روحانی گورو شری روی شنکر نے انا ہزارے کے سامنے حکومت کا تجویز کردہ ایک فارمولہ رکھا تھا جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہap
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کےمطابق کل جماعتی اجلاس بدھ کو دوپہر ساڑھے تین بجے طلب کیا گیا ہے اور لوک پال بل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیے جانے سےقبل سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا منگل کو آٹھواں دن ہے لیکن ان کی صحت کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہےکہ ابھی خطرے کی کوئی بات نہیں ہے حالانکہ ان کا وزن تقریباً پانچ کلو کم ہوگیا ہے۔
دلی کے رام لیلا میدان میں بدستور بھیڑ جمع ہے لیکن لوگوں کی تعداد سنیچر اور اتوار کے مقابلے میں فی الحال کافی کم ہے۔
منگل کی شام کانگریس کے ترجمان اور حکومت کے لوک پال بل کا جائزہ لینے والی مجلس قائمہ کے چیئرمین ابھی شیک منو سنگھونی نے کہا تھا کہ انا ہزارے اگر آٹھ ہفتوں کےلیے اپنی بھوک ہڑتال معطل کردیں تو ان کے کچھ مطالبات کو تسلیم کرنے کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔
اروند کیجری وال نے کہا کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو ان کے مطالبات چوبیس گھنٹے میں تسلیم کیے جاسکتے ہیں اور ابھیشیک منوسنگھوی کی تجویز صرف ان کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
انا ہزارے اور ان کے ساتھی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے وضع کیے جانے والے ایک بل کے دائرے میں وزیر اعظم اور عدلیہ کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے حکومت تیار نہیں ہے۔







