حکومت اور انّا کے درمیان تعطل برقرار

انّاہزارے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈاکٹروں کے مطابق انا ہزارے کافی کمزور ہوگئے ہیں

سنیچر کے روز اناہزارے کی ٹیم نے حکومت کے نمائندوں سے پہلے مرحلے کی بات چيت کے بعد سرکاری رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مسئلہ کے حل میں مدد نہیں ملے گی۔

ادھر اس مسئلے پر پارلیمان میں بحث جاری ہے جس میں تمام پارٹیاں اپنے موقف کی وضاحت کر رہی ہیں۔

بات چیت کے بعد سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے کہا پہلے ان کی ٹیم کو اس بات کا احساس دلایا گیا تھا کہ انا ہزارے کی تینوں بنیادی مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے پارلیمان قرارداد منطور کریگی یا پھر اس پر ووٹنگ ہوگی لیکن اب وہ اس طرح کی یقینی دہانی سے گریز کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا '' اب کہا جارہا ہے کہ اس پر کوئی باقاعدہ قرارداد منظور نہیں ہوگی اور نا ہی ووٹنگ کرائی جائیگي۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ اس سے نا تو کوئی مدد ملیگی اور نا ہی اس کا کوئي مطلب ہے۔''

امکان ہے کہ بحث کے بعد پارلیمان کوئی ایسا قدم اٹھائیگی جس سے انّا ہزاے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر سکیں گے لیکن ابھی تک تعطل کی صورت حال برقرار ہے۔

انّاہزارے
،تصویر کا کیپشنہزارے کی حمایت میں اب بھی لوگ بڑی تعداد میں نکل رہے ہیں

اس سے قبل صبح لوک پال قانون کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے انّا ہزارے کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کے لیے پارلیمان میں بحث شروع کی گئی تھی جو ابھی جاری ہے۔

پارلیمان کا اجلاس شروع ہوتے ہی لوک سبھا کے لیڈر پرنب مکھرجی نے اس سے متعلق ایک حکومتی بیان پڑھا جس کے بعد حزب اختلاف کی رہنما شسما سواراج نے بحث آغاز کیا۔

گزشتہ روز بھارتیہ جنتا پارٹی نے بعض شرائط کے ساتھ انا ہزارے کی ان تینوں بنیادی باتوں کو تسلیم کرنے کی بات کہی تھی جن پر انّا کی ٹیم اصرار کرتی رہی ہے۔

بی جے پی کی رہنماء شسما سواراج نے لوک پال پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی وزیراعظم کو لوک پال کے دائرے میں لانے کی حامی ہے۔

انہوں نے عدالیہ کی جوابدہی کی بھی حمایت کی اور عدلیہ کو لوک پال کے دائرے میں لانے کے بجائے اس کے لیے ایک خصوصی جوڈیشیل کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔

بی جے پی نے انّا ہزارے کی ٹیم کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو بھی لوک پال کے دائر میں لا یا جائے۔

ارکان پارلیمان کو لوک پال کے دائرے میں لانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایوان کے اندر کی ارکان کی کارروائی کو لوک پال کے دائرے سے الگ رکھا جائے کیونکہ اس کی ضمانت آئین نے دی ہے۔ لیکن ایوان کے باہر کے ان کے کردار کو اس کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے اور بی جے پی اس کی حامی ہے۔

بی جے پی نے اعلی نوکرشاہوں اور سرکاری ملازمین کو بھی لوک دائرے میں لانے کی حمایت میں کی ہے اور اس طرح اناّ ہزارے کے تینوں بنیادی نکات کی اس نے حمایت میں اعلان کیا ہے۔ شسما سواراج کا خطاب ابھی جاری ہے۔

اس دوران جن لوک پال بل کے مطالبے کے لیے رام لیلا گراؤنڈ پر انّا ہزارے کی بھوک ہڑتال آج بارہویں دن بھی جاری ہے۔

سنیچر کی صبح ڈاکٹروں نے ان کی صحت کی جانچ کے بعد کہا ہے کہ انّا ہزارے بےحد کمزور ہوگئے ہیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ آرام کی ضرورت ہے۔