لوک پال بل پر محاذ آرائی برقرار

انّا ہزارے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانا ہزارے کی بھوک ہڑتال بارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور رام لیلا میدان میں ان کی حمایت میں ہزاروں لوگ بدستور جمع ہیں۔

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف بزرگ سماجی کارکن انا ہزارے کے تجویز کردہ سخت قانون پر سنیچر کو پارلیمان میں بحث ہوگی لیکن فی الحال حکومت کے ساتھ ان کی محاذ آرائی ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے۔

انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا آج گیارہواں دن ہے اور دلی کے رام لیلا میدان میں ان کی حمایت میں ہزاروں لوگ بدستور جمع ہیں۔

لیکن انا ہزارے کی اس مطالبے پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے کہ حکومت تمام سرکاری ملازمین کو لوک پال بل کے دائر میں لانے، ریاستوں میں بھی نگرانوں کی تقرری اور سرکاری ملازمین کی جواب دہی کے بارے پارلیمان میں ایک قرارداد منظور کرائے۔

لیکن حکومت کا کہنا یہ ہے کہ وہ پارلیمان میں بحث سے پہلے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتی، کیونکہ پھر نہ تو بحث کا کوئی مطلب باقی رہ جائے گا اور نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ قرارداد ایوان میں منظور ہوجائے گی کیونکہ اس کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت درکار ہوگی۔

لیکن شاید اصل وجہ یہ ہےکہ حکومت ان مطالبات سے اتفاق نہیں کرتی اور قرارداد منظور ہوجانےکی صورت میں وہ ان پر عمل کرنے کی پابند ہوجائے گی۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو بل کے دائرے میں لانا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ ’قانون ایسا ہونا چاہیے جس پر عمل کیا جاسکے۔‘

اسی کنفیوژن کے ماحول میں حکومت نے ایک ایسی شق کے تحت لوک سبھا میں بحث کرانے کی کوشش کی جس میں ووٹنگ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن حزب اختلاف نے ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دی۔ اس کا الزام تھا کہ انہیں بحث کے بارے میں پہلے سے نہیں بتایا گیا تھا۔

بی جے پی نے خود ایسے ضابطے کے تحت بحث کا نوٹس دیا ہے جس کے تحت ووٹنگ لازمی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تمام پارٹیوں کو جن لوک پال بل کی مختلف تجاویز پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے جو ووٹنگ سے ہی ممکن ہے۔ اس کی قرارداد میں انا ہزارے کے جن لوک پال بل کی کئی اہم تجاویز شامل ہیں۔

حکومت اور انا ہزارے کیمپ کے درمیان بات چیت ابھی جاری ہے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا ہے۔