عوامی پارلیمان سب سے بڑی ہے: انا ہزارے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارتی حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد بدعنوانی کےخلاف سرگرم بزرگ سماجی کارکن انا ہزارے نے بارہ دن سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
اتوار کو انہیں دو چھوٹی بچیوں اقراء اور سمرن نے ناریل پانی پلایا اور شہد کھلایا۔ ان لڑکیوں کا تعلق مسلمان اور دلت خاندان سے تھا۔
اس موقع پر رام لیلا میدان میں جشن کا سا سماں ہے اور وہاں جمع ہزاروں افراد نے پرجوش انداز میں نعرے بازی کی اور بھارتی پرچم لہرائے۔
اننا ہزارے اس وقت دلی کے نواحی علاقے گڈگاؤں میں واقع ویدانتا ہسپتال میں داخل ہیں اور انہیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد سے خطاب کرتے ہوئے انا ہزارے کا کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری ’ہر بھارتی کی جیت ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اگر جن لوك پال کے معاملے پر پارلیمان پیچھے ہٹا تو عوام کو پھر سے کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ پارلیمنٹ سے بڑی عوام کی پارلیمنٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عوام کی پارلیمان اس پارلیمان سے کہیں بڑی ہے۔ پارلیمنٹ کو یہ فیصلہ عوام کے دباؤ میں آ کر کرنا پڑا ہے۔ اس تحریک نے یہ یقینی بنا دیا ہے کہ ہم بدعنوانی سے آزاد ملک بنا سکیں گے‘۔
انا ہزارے نے کہا کہ ’ اقتدار کی عوام تک منتقلی سے ہی لوگوں کے ہاتھوں میں صحیح طاقت آ سکے گی‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ فخر کی بات ہے کہ ملک میں اتنی بڑا تحریک چلی اور کوئی تشدد نہیں ہوا۔ یہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انا کی ٹیم کے رکن اروند كجریوال نے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے سڑکوں پر آنے کی وجہ سے حکومت پر دباؤ پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتوں کے تعاون کے بغیر یہ قرارداد منظور نہیں ہوتی۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘۔
اس سے پہلے سنیچر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں احتساب کے بارے میں انا ہزارے کے تینوں مطالبات پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام ارکان کی رائے کو لوک پال بل پر غور کرنے والی کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔
پہلے حکومت اتفاق رائے کے ساتھ ایک بیان منظور کروا کر انا ہزارے کو بھیجنا چاہتی تھی لیکن انا ہزارے کی ٹیم ووٹنگ کی ضد پر اڑ گئی لیکن بعد میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر لی گئی کیونکہ جس ضابطے کے تحت بحث ہوئی تھی اس میں ووٹنگ کی گنجائش نہیں تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انا ہزارے نے جمعہ کو وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ وہ تین امور پر پارلیمنٹ کی منظوری چاہتے ہیں اور اگر ان پر پارلیمان میں اتفاق رائے ہو جائے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے جن لوك پال کے جن تین اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک یہ تھا کہ اسی قانون کے ذریعہ لوك ايكت بھی بنائے جائیں، دوسرا ہر شعبہ میں عوامی مسائل کے لیے سٹینڈنس چارٹر بنایا جائے جسے نہ ماننے پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہو اور تیسرا یہ کہ مرکزی حکومت اور ریاست کے تمام ملازمین کو اس بل کے دائرے میں لایا جائے۔
سینیچر کی صبح پارلیمان میں بحث کا آغاز ہونے کے چند ہی لمحوں کے اندر یہ واضح ہوگیا تھا کہ حکومت نے معمولی تحفظات کے ساتھ انا ہزارے کے مطالبات تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔







