انّا ہزارے، جمود ختم اور بات چیت شروع

،تصویر کا ذریعہap
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سماجی کارکن انا ہزارے سے کہا ہے کہ وہ ان کا تجویز کردہ لوک پال بل پارلیمان کی مجلس قائمہ کے سامنے پیش کرنےکے لیے تیار ہیں۔
وزیر اعظم نے بزرگ سماجی کارکن کے نام تحریر ایک خط میں کہا ہے کہ انہیں آّٹھ دن سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کردینی چاہیے اور اگر لوک سبھا کی سپیکر نے اجازت دی تو حکومت ان کا بل بھی مجلس قائمہ کے سامنے پیش کردے گی۔
اس سے پہلے انا ہزارے کی ٹیم کے ایک رہنما اروند کیجری وال نے وزیر قانون سلمان خورشید سے ملاقات کی تھی۔
اروند کیجری وال نے بعد میں کہا کہ حکومت نے تحریک کے رہنماؤں سےبات چیت کی ذمہ داری وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو سونپی ہے۔ سماجی کارکن آج شام ہی پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کریں گے۔
اپنے خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’مجلس قائمہ کو سرکاری بل تمام ضروری ترامیم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ہم کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں پارلیمان کی بالادستی کے اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہ پیشکش انا ہزارے کی صحت پر گہری تشویش کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی ہے لیکن بات چیت کا باقاعدہ آغاز بھی ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

،تصویر کا ذریعہap
انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا آج آٹھواں دن ہے لیکن ان کی صحت کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہےکہ ابھی خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔
حالانکہ ان کاوزن تقریباً ساڑھے پانچ کلو کم ہوگیا ہے۔ دلی کے رام لیلا میدان میں بدستور بھیڑ جمع ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس تحریک کو عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت کودیکھتے ہوئے اپنے موقف میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق آج دن میں کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہول گاندھی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔
منگل کی شام کانگریس کے ترجمان اور حکومت کے لوک پال بل کا جائزہ لینے والی مجلس قائمہ کے چئرمین ابھیشیک منو سنگھونی نے کہا تھا کہ انا ہزارے اگر آٹھ ہفتوں کےلیے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں تو ان کے کچھ مطالبات کو تسلیم کرنے کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔
انا ہزارے اور ان کے ساتھی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے وضع کیے جانے والے ایک بل کے دائرے میں وزیر اعظم اور عدلیہ کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے حکومت اب تک تیار نہیں تھا لیکن وزیر اعظم کے خط سے لگتا ہے کہ اب کوئی بیچ کا راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔







