گمنام قبریں: انا کی ٹیم آواز اُٹھائے گی

پرشانت بھوشن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپرشانت بھوشن کشمیر کے دورے پر ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت میں سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے خلاف جدجہد کرنے والے انا ہزارے کے قریبی ساتھی پرشانت بھوشن نے آج عندیہ دیا ہےکہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گمنام قبروں اور انسانی حقوق کی دیگر پامالیوں سے متعلق انا ہزارے کی ٹیم آواز اٹھائے گی۔

مسٹر بھوشن حراستی قتل کے ایک کیس کی پیروی کے سلسلے میں کشمیر کے دورے پر ہیں۔

سولہ سال قبل جنوبی ضلع ڈوڈہ میں تہرے قتل کی ایک واردات کی سماعت کے بعد مسٹر بھوشن نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے گمنام قبروں کے انکشاف اور حراستی قتل کی وارداتوں کو بہت بڑی ناانصافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق نے کشمیرمیں ہونے والے ظلم و زیادتیوں کے خلاف بھارتی شہروں میں احتجاج کرنے کے لئے انا ہزارے کی ٹیم کو جو تجاویز دی تھیں ان پر ابھی رسمی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف تحریک دراصل انصاف کے حصول کی تحریک ہے اور بھاری تعداد میں فوج اور دوسری فورسز کی موجودگی اور انہیں حاصل لامحدود اختیارات کی وجہ سے کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر ناانصافیاں ہو رہی ہیں۔

پرشانت بھوشن نےگمنام قبروں کے انکشاف اور حراستی قتل کی وارداتوں کو بہت بڑی ناانصافی قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپرشانت بھوشن نےگمنام قبروں کے انکشاف اور حراستی قتل کی وارداتوں کو بہت بڑی ناانصافی قرار دیا۔

مسٹر بھوشن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں انا ہزارے کی ٹیم کا مؤقف ان کے ذاتی مؤقف سے الگ نہیں ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ گمنام قبروں میں دفن لوگوں کی شناخت کرنے کا عمل فوری طور شروع کیا جائے۔

وہ سولہ سال قبل جنوبی ضلع ڈوڈہ میں تین شہریوں کے حراستی قتل سے متعلق کیس کی پیروی کے سلسلے میں کشمیر آئے تھے۔ واضح رہے کرائم برانچ نے پہلے اس سلسلے میں مقامی پولیس کے موجودہ سربراہ کلدیپ کھڈا کے خلاف شواہد پر مبنی رپورٹ تیار کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق مسٹر کھڈا نے ہی، جو واردات کے وقت ڈوڈہ کے ڈی آئی جی تھے ایک سرکار نواز بندوق بردار کو ہتھیار فراہم کئے اور واردات کا علم ہونے پر بھی اس کے خلاف کاروائی نہیں کی۔

مسٹر بھوشن نے کہا کہ اگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف روزیوں میں ملوث بااثر اور بااختیار لوگوں کو سزا نہ دی گئی تو لوگوں میں موجود بے چینی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔