انّا ہزارے کو سپریم کورٹ کا نوٹس

بھارت کی سپریم کورٹ نے سماجی رہنماء انّا ہزارے کی تنظیم ’ہند سوارج ٹرسٹ‘ میں مالی بےضابطگیوں کی بابت نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے یہ نوٹس مفاد عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا ہے۔
یہ درخواست منوہر لال شرما نامی ایک شہری نے داخل کی تھی۔ عدالت نے نوٹس مرکزی حکومت اور سی بی آئی کو بھی جاری کیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہند سوارج تنظیم کو دی گئی رقم میں دھاندلی ہوئی ہے اور مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کو اس کی تفتیش کرنی چاہیے۔
ہند سوارج نامی تنظیم انّا ہزارے چلاتے ہیں اور سپریم کورٹ نے تنظیم میں مالی بےضابطگیوں کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے انّا ہزارے سے پوچھا ہے کہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے جانچ کیوں نہ کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس کے جواب کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔
اس نوٹس کے متعلق ابھی تک انّا ہزارے یا ان کی ٹیم کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ انّا ہزارے اس وقت ایک ہفتے کے لیے مونہہ ورت یعنی نہ بولنے کی مہم پر ہیں۔
انّا ہزارے ملک میں بد عنوانی کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں اور آج کل بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے ایک مؤثر قانون ’جن لوک پال‘ کو منظور کرانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







