دلائی لامہ کے جانشین منتخب

لوبسانک سانگے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمسٹر سانگے کو پچپن فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے

امریکہ کی ہاروڈ یونیورسٹی میں قانون کے ایک ماہر لوبسانگ سانگے کو جلاوطن تبتی حکومت کا نیا وزیر اعظم منتخب کیا گیا ہے۔ وہ اب دلائی لاما کی جگہ تبتیوں کی سیاسی قیادت سنبھالیں گے۔

لوبسانگ سانگے کو بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے دھرم شالہ شہر میں قائم جلا وطن حکومت کے وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا تھا۔

ان کے انتخاب کے اعلان کے ساتھ ہی تبتی عوام کی ایک صدیوں پرانی روایت ختم ہو جائےگی جس کے تحت دلائی لاما ہی اپنی قوم کو روحانی اور سیاسی رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں۔

لیکن موجودہ دلائی لاما، جن کی عمر پچہتر برس ہے، کافی عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ وہ سیاسی قیادت سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایک جمہوری طور پر منتخب سیاسی سربراہ کو عالمی سٹیج پر خود کو تسلیم کروانا آسان ہوگا۔گزشتہ تقریباً نصف صدی سے دلائی لاما نے ہی عالمی برادری کے سامنے تبتیوں کا کیس پیش کیا ہے۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب اور سیاسی قیادت چھوڑنے کی دلائی لاما کی خواہش کا اصل مقصد دلائی لاما کے انتقال سے پہلے ہی ان کی سیاسی جانشینی کا سوال طے کرنا بھی ہے۔

لوبسانگ سانگے بین الاقوامی قوانین کے ماہر ہیں اور ان کا جنم بھارت میں ہی ہوا تھا۔ وزیر اعظم کے انتخاب میں دنیا بھر میں آباد دسیوں ہزار تبتیوں نے حصہ لیا اور سانگے کو پچپن فیصد ووٹ ملے۔

الیکشن سے پہلے سانگے نے کہا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ امریکی شہر بوسٹن سے دھرم شالہ منتقل ہو جائیں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے عہدے کی ذمہ داری کب سنبھالیں گے۔ اس الیکشن میں نئی جلاوطن پارلیمان بھی منتخب کی گئی ہے۔

دلائی لاما کا خیال ہے کہ نئے وزیر اعظم کے لیے تبتیوں کے خود مختاری کے مطالبے پر چین سے بات کرنا نسبتاً آسان ہوگا۔ خود سانگے کہتے ہیں کہ اب چین کا دو محاذوں پر مقابلہ کیا جاسکےگا، ایک طرف دلائی لاما ہوں گے اور دوسری جانب وہ خود۔

’ ہم چین کو یہ دکھا رہے ہیں کہ اگر تبتیوں کو خود اپنا فیصلہ کرنے دیا جائے تو وہ ایک مستحکم جمہوری حکومت قائم کرسکتے ہیں۔‘

لیکن چین کا موقف یہ ہے کہ دلائی لاما تبت کی علیحدگی کے لیے کام کر رہے ہیں، خود مختاری کا مطالبہ صرف ایک بہانہ ہے۔

چین نے انیس سو پچاس میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ تبت صدیوں سے اس کا حصہ رہا ہے، اس کوہستانی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔