’انتظامیہ اور پولیس براہ راست ذمہ دار‘

فائل فوٹو

بھارت کی سپریم کورٹ نےکھاپ یا ذات پنچایتوں کے بےتکے فیصلوں کے پس منظر میں حکومت کو ہدایت کی ہے کہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی صورت میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ ذات پنچایتوں کو متبادل عدالتوں کے طور پر کام کرنے سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بھارت کی شمالی ریاستوں بالخصوص ہریانہ، پنجاب اور اترپردیش میں طاقتور ذات پنچایتیں متبادل نظام عدل کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان پنچایتوں کے رہنما دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فوری اور سستے انصاف کا ایک بڑا سماجی تقاضہ پورا کررہے ہیں۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق یہ پنچایتیں اکثر قانون اپنے ہاتھ میں لیتی ہیں اور ان کی سرپرستی میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔

کھاپ پنچایتوں کے سب سے زیادہ فیصلے ایک ہی گوترا یا خاندان یا ایک ہی گاؤں میں شادی کے خلاف ہوتےہیں۔

ایسے ہی ایک فیصلے میں گزشتہ برس ایک شادی شدہ جوڑے کو بھائی بہن کی طرح رہنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ کھاپ پنچایت کے مطابق دونوں کا تعلق ایک ہی گوترا سے تھا۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور گیان سدھا مشرا کے بنچ نے کہا کہ اگر یہ بات سامنے آئے کہ انتظامیہ کو کھاپ پنچایت کے فیصلے یا ارادے کا علم تھا اور پھر بھی اس نے نوجوان جوڑوں پر ظلم و زیادتی روکنے کے لیے کارروائی نہ کی ہو تو انہیں معطل کرکے ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جانی چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ ’ غیرت کے نام پر قتل یا (اپنی مرضی سے شادی کرنے والے) جوڑوں پر ظلم و زیادتی بالکل غیر قانونی ہے اور ان واقعات کو سختی سے روکا جانا چاہیے۔ قتل کے ایسے واقعات کا عزت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ قدامت پسند اور بے رحم لوگوں کے ہاتھوں قتل کے برابر اور شرمناک واقعات سے زیادہ کچھ نہیں اور انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔‘

بھارتی عدالتیں گزشتہ کچھ عرصے سے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں انتہائی سخت موقف اختیار کر رہی ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ کیس ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ مقامی لوگ گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

شمالی بھارت کے بہت سے علاقوں میں یہ عام تاثر ہے کہ اپنی پسند سے شادی کے بڑھتے ہوئے رحجان، اور اپنے ہی گوترا میں شادی پر پابندی کی خلاف ورزی سے سماج کا تانا بانا تباہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق ذات پنچایتیں اسی سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فیصلے تھوپنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔