ششی تھرور: ٹیم خریدنے میں کوئی کردار نہیں

ششی تھرور
،تصویر کا کیپشنششی تھرور پر الزام ہے کہ انہوں کوچی سے منسوب ایک نئی ٹیم کی منظوری دلوانےکے لیے اپنے عہدے کا بے جا استعمال کیا تھاکوچی ٹیم کو
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ ششی تھرور نے انڈین پریمئر لیگ کی ایک نئی ٹیم کے حق میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کے الزامات سے انکار کیا ہے لیکن حزب اختلاف نے ان کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں جمعہ کو پارلیمان میں تقریر نہیں کرنے دی۔

حزب اخلاف کے ہنگامے کی وجہ سے سپیکر میرا کمار نے لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرتے ہوئے ششی تھرور کو اپنا تحریری بیان ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔

ششی تھرور پر الزام ہے کہ انہوں نے کیرالہ کے شہر کوچی سے منسوب ایک نئی ٹیم کی منظوری دلوانےکے لیے اپنے عہدے کا بے جا استعمال کیا تھا۔

اس نئی فرینچائز سے ان کی وابستگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان کی قریبی دوست سنندا پشکر کو کوچی کی ٹیم میں جو حصہ دیا گیا ہے وہ در اصل ششی تھرور کا ہے۔

تھرور نے اپنے بیان میں کہا کہ اس ٹیم سے ان کا نہ کوئی مالی مفاد وبستہ تھا اور نہ ہے اور وہ صرف کیرالہ میں کرکٹ کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹیم سے اپنی وابستگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف سرپرستی یا ’مینٹورنگ' تک محدود ہے۔

لیکن آئی پی ایل کے چئر مین للت مودی کو نشانہ بناتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ کر کٹ کے کھیل سے ہونے والا فائدہ چند مخصوص لوگوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے اور ادارے جہموری انداز میں چلائے جانے چاہئیں۔

جواب میں للت مودی نے کہا کہ ششی تھرور کو جو بھی اجنڈا ہے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ششی تھرور نے اپنا بیان میڈیا کو بھی پڑھ کر سنایا لیکن سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

للت مودی پر الزام یہ ہے کہ وہ کوچی کو فرینچائز دینے کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن مودی کا کہنا ہے کہ اس فرینچائز کے پیچھے کون لوگ ہیں، یہ بات ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھی جنہوں نے اس فرینچائز کی جانب سے درخواست داخل کی تھی اور اس لیے اس نئی ٹیم کو منظوری نہیں دی جارہی تھی۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب للت مودی نے سوشل نیٹورکنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کوچی فرینچائز کے مالک کمپنی ’رانڈیوو' کے شئر مالکان کی تفصیلات شائع کیں۔ ان میں ایک نام سوشلائٹ سنندا پشکر کا بھی تھا جو دوبئی میں رہتی ہیں اور جو ششی تھرور کے بہت قریب مانی جاتی ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ سنندا پشکر کے پاس اس کمپنی میں ستر کروڑ روپے مالیت کے شئر ہیں۔ سنندا نے یہ اعتراف تو کیا ہے کہ ان کے پاس کمپنی کے شئر ہیں لیکن ان کی مالیت نہیں بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شئر انہیں ان کی پیشہ ورانہ خدامات کے عوض آئندہ برسوں میں دیے جائیں گے۔ سنندا نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ وہ ششی تھرور کے ’فرنٹ' کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

اس پورے معاملے نے سیاسی رنگ اس لیے بھی اختیار کر لیا ہے کہ ششی تھرور کانگریس کے وزیر ہیں جو سونیا گاندھی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں جبکہ للت مودی کا جھکاؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف مانا چاتا ہے۔ اسی پس منظر میں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا نام بھی آیا ہے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اس ٹیم کو کوچی کے بجائے احمد آباد منتقل کرانا چاہتے تھے۔ لیکن انہوں نے بھی اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

اس سے پہلے للت مودی نے دعوی کیا کہ تھرور نے انہیں فون کرکے کوچی کی ٹیم کو کلئرنس دینے کی سفارش کی تھی۔ لیکن ششی تھرور کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اس فرینچائز کی درخواست کیوں التوا میں پڑی ہوئی ہے۔