ویزا کے معاملے پر وزراء میں بیان بازی

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے ہی محکمہ کے وزیر مملکت ششی تھرو پر ویزا کے اصول و ضوابط کے متعلق سماجی نیٹ ورکنگ کے لیے معروف ویب سائٹ ٹوئٹر پر تبصرہ کرنے کے لیے نکتہ چینی کی ہے۔
ایس کرشنا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت ویزا کے تعلق سے انہیں اصول و ضوابط پر عمل کرے گی جن کی وزارت داخلہ نے منظوری دی ہے۔
مسٹر کرشنا نے کہا ہے کہ اگر اس معاملے پر اختلافات ہوں تو انہیں عوام میں ظاہر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ’پالیسی معاملات پر بات چیت حکومت کے اندر ہوتی ہے ان پر باہر بحث نہیں ہوتی۔‘
بھارتی حکومت نے امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی معاملے کے سامنے آنے کے بعد ویزا پالیسی میں سختی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق حکومت نے سخت پالیسی کا صرف اعلان کیا تھا جن پر اعتراض کے بعد واپس لے لیا گیا ہے اور شاید ان کا نفاذ نہ ہو سکے۔ تاہم وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اصول و ضوابط کو تسلیم کریگی جنہیں حکومت نے تسلیم کرلیا ہو۔
اس پر کئی حلقوں سے نکتہ چینی ہوئی ہے اور بھارت کے وزیر خارجہ برائے مملکت ششی تھرور نے بھی اپنی ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ دہشت گرد ویزا لے کر بھارت نہیں آتے۔
ان کے مطابق ’بیرونی شہریوں کے لیے ویزا کے اصول میں سختی برتنے سے کیا واقعی ملک کا حفاظتی بند وبست صحیح ہوجائیگا؟ ممبئی کے حملہ آور ویزا لے کر ملک میں نہیں آئے تھے۔‘
ششی تھرور نے لکھا تھا کہ بیرونی ممالک کے لوگوں کے ویزا میں اس طرح کی سختی سے عام لوگوں کو پریشانوں کو سامنا کرنا پڑے گا اور ’اس سے بھارت کو لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالانکہ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کس اس طرح کے پیچدہ سوالوں کے جواب حکومت کے لیے آسان نہیں ہیں۔ لیکن ان کے خلاف ذرائع بلاغ میں ایک مہم شروع ہوگئی جس کے بعد ایس ایم کرشنا نے یہ بیان جاری کیا ہے۔







