سہراب الدین کیس: معاوضہ ادا کرنے کا حکم

سہراب الدین اور ان کی بیوی کوسر بی
،تصویر کا کیپشنسہراب کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کے بعد سہراب کی اہلیہ کوثربی کا بھی کچھ پتہ نہيں چل سکا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے سہراب الدین فرضی پولیس مقابلے کے معاملے میں گجرات حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ مقتول سہراب الدین شیخ کے بھائی کوعارضی معاوضہ ادا کرے ۔

عدالت عظمی نے گجرات حکومت کے وکیل کی درخواست پر معاوضے کی رقم طے نہیں کی ہے اور معاوضے کی رقم کا فیصلہ ریاستی حکومت پر چھوڑ دیا ہے ۔

عدالت کی ابک دو رکنی بنچ نے معاوضے کا حکم دیتے ہوئے گجرات حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس فرضی پولیس مقابلے کے معاملے کی تفتیش خصوصی تفتیشی ٹیم کو کیوں نہ سونپ دی جائے ۔

سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے اہم واقعات کا جائزہ لینے اور وزیر اعلٰی نریندر مودی سمیت تقریباً پچاس اہم افراد سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے گزشتہ مارچ میں سی بی آئی کے ایک سابق سربراہ کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جو اپنی رپورٹ ‏عدالت عظمٰی کو دے گی۔ یہ ٹیم فسادات کے سلسلے میں وزیر اعلی مودی سے بھی پوچھ گچھ کرنے والی ہے ۔

سہراب الرین شیخ کا واقعہ نومبر دو ہزار پانچ میں اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی بیوی کوثر بی کے ہمراہ احمدآباد سے مہاراشٹر کے شہر سنگلی جار ہے تھے۔ لیکن پولیس نے احمدآباد کے نزدیک انہيں بس سے اتار لیا۔

پولیس نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ سہراب کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکرطیبہ سے ہے اور جب وہ فرار ہونےکی کوشش کر رہا تو اسے ہلاک کر دیا گیا۔

لیکن سہراب الدین کے بھائی نےسپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں بتایا گيا کہ ان کا بھائی شدت پسند نہيں تھا اور ان کے بھائی کو فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گيا ہے۔

عدالت کے حکم پر ریاستی حکومت نے سی آئی ڈی سے انکوائری کروائی اور پولیس کے بیان کو غلط پایا۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ واقعہ ایک فرضی پولیس مقابلہ تھا۔

سہراب کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کے بعد سہراب کی اہلیہ کوثربی کا بھی کچھ پتہ نہيں چل سکا ہے۔

فرضی پولیس مقابلے میں سہراب کے ایک دوست پرجا پتی کو بھی پولیس نے فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا ۔ پرجاپتی سہراب کے قتل کے چشم دید گواہ تھے اور انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گجرات پولیس انہیں قتل کرنے کی تاک میں ہے۔

سی آئی ڈی نے گجرات انسداد دہشت گردی شعبے کے سربراہ ڈی جی ونجارا اور سپرٹینڈینٹ آف پولیس راج کمار پنڈیان اور راجستھان کے اعلٰی پولیس افسر دنیش کمار جو ’فرضی پولیس مقابلے‘ کے دوران ان کے ساتھ تھے کو اس معاملے میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ۔

ونجارا اور ان کے ساتھی افسران پر الزام ہے کہ نہ صرف انہوں نے سہراب الدین کو اغواء کر کے اسے فرضی مقابلے میں مار ڈالا بلکہ اس کی بیوی کوثر بی کو بھی قتل کر کے اس کی لاش کو نذر آتش کردیا۔

یہ سارا معاملہ پردہ راز میں ہی رہتا اگر مقتول کا بھائی رباب الدین اپنے بھائي اور اپنے بھابھی کی گمشدگی کا معاملہ عدالت تک نہيں لے گيا ہوتا۔

سپریم کورٹ نے معاوضے کا حکم ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب شمال مشرقی ریاست منی پور میں ایک مبینہ فرضی تصادم کے خلاف ہڑتال منائی جا رہی ہے۔

چند ہفتے قبل اترا کھنڈ پولیس نے بھی مینیجمنٹ کے ایک طالب علم کو گینگسٹر بتا کر ہلاک کر دیا تھا ۔ اس واقعے کی بھی تفتیش ہو رہی ہے۔

گزشتہ برس دلی کے بٹالہ ہاؤس میں ہونے والے تصادم کے بارے بھی میں حقوق انسانی کی تنظیمیں سوالات کر رہی ہیں اور اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیس کو دیے گئے خصوصی اختیارات کو ختم کے کے ہی اغوا، ایذا رسانی اور تحویل میں ہلاکتوں کو روکا جا سکتا ہے۔