دارجیلنگ میں ہڑتال سے زندگی متاثر

- مصنف, سبیر بھومک
- عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
ریاست مغربی بنگال کے علاقے دارجیلنگ میں جاری ہڑتال سے عام زندگي پر برا اثر پڑا ہے لیکن گورکھا جن مکتی مورچہ نے ریاستی حکومت کی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔
ہل سٹیشن دارجیلنگ میں پیر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع ہوئی جس سے تجارتی سرگرمیاں، سیاحت اور روز مرہ کی زندگی پوری طرح مفلوچ ہو کر رہ گئی ہے۔
ہڑتال گورکھا جن مکتی مورچہ ( جی جے ایم) نے کی ہے جو دارجیلنگ علاقے میں بسے نیپالی نژاد اکثریتی لوگوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتی رہی۔ جی جے ایم کے رہنما بمل گروم نے کہا ہے کہ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ ’ہم بنگال حکومت کی اپیل کیسے مان لیں جبکہ انہوں نے ان پولیس افسروں کو ہٹانے سے منع کر دیا ہے جو ہم پہ ظلم کرتے ہیں۔‘
منگل کے روز ریاست مغربی بنگال کے وزیر اعلی بدھا دیب بھٹہ چاریہ نے گورکھا جن مکتی مورچہ سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔
ادھر ریاستی حکومت کے چیف سکریٹری اشوک موہن چکرورتی نے پولیس افسروں کو ہٹانے سے انکار کردیا ہے۔ ’پولیس نے اب تک احتیاط سے کارروائی کی ہے لیکن انہیں ان کا فرض نبھانا ہے اور ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘
جن مکتی مورچہ کا کہنا ہے کہ جیسے بہار سے جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ جیسی ریاستی وجود میں آئی ہیں ویسے ہی دارجیلنگ کو ریاست مغربی بنگال سے ایک علحیدہ ریاست کا درجہ ملنا چاہیے۔
دارجیلنگ سیاحت اور چائے کی کاشت کے لیے مشہور ہے اور اگر یہ ہڑتال جاری رہی تو سیاحت اور چائے کی پیدا وار پر اس کا اثر پڑے گا۔
گزشتہ برس جن مکتی مورچہ کی ہڑتال سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور علیحدہ ریاست کی تحریک کے تحت تشدد میں کئی افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔اس وقت سے حکومت نے وہاں خصوصی پولیس دستوں کو تعینات کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







