انڈیا کی سپریم کورٹ نے ذات پات سے متعلق متنازع فیصلہ واپس لے لیا

People protesting in Jalandhar, Punjab

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنے ہی ایک پرانے فیصلے کو واپس لے لیا ہے جس پرملک میں نچلی ذات کے ہندوؤں میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی وجہ سے سخت تنقید کی جا رہی تھی۔

جب سپریم کورٹ نے نچلی ذاتوں سے متعلق قانون 'ایس سی /ایس ٹی' (شیڈیول کاسٹ/ شیڈیول ٹرائب) پر فیصلے دیا تو اس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے تھے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے منگل کو سنایا جانے والا فیصلہ مرکزی حکومت کی طرف سے پچھلے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر سامنے آیا ہے۔

ذات پات کے نام پر تشدد انڈیا کا ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کے خلاف 40 ہزار سے زائد جرائم رپورٹ ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف گذشتہ سال پر تشدد احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہوئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت نے اپنے پہلے کے فیصلے میں فوری گرفتاریوں اور جرائم کی از خود رجسٹریشن سے روک دیا تھا جس کے بعد ناقدین کا یہ کہنا تھا کہ اس فیصلے سے حکام کو ذات کے نام پر ہونے والی زیادتیوں سے صرف نگاہ کا رستہ مل جائے گا۔

ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کیا ہے؟

انڈیا میں شیڈولڈ کاسٹ (نچلی سمجھی جانے والی ذاتیں) اور شیڈولڈ ٹرائبز (نچلے درجے کے سمجھے جانے والے قبائل) کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے سنہ 1989 میں ایک قانون متعارف کرایا گیا تھا۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دلتوں کو اپنے حقوق کے لیے بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے

یہ قانون اس خیال کے تحت متعارف کرایا گیا تھا کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ پسماندہ ذاتوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

اس قانون کے تحت فوری گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی تھیں، ضمانت حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوا کرتا تھا اور نچلی ذات کے کسی فرد کے خلاف جرائم سرزد ہونے پر از خود مجرمانہ مقدمہ درج ہو جاتا تھا۔

اس قانون کے تحت ایسے مقدمات میں ملوث ملزم کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں جن میں جائیداد کی قُرقی وغیرہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اس قانون کے تحت فرائض منصبی میں غفلت برتنے پر سرکاری افسران کے خلاف بھی مقدات کا اندراج ممکن تھا ہے جو کہ نچلی ذات کے لیے بڑی بات تھی کیونکہ ان کو یہ شکایت رہتی تھی کہ ان کی آواز کو ان ذاتوں کے خلاف نہیں سنا جاتا تھا جن سے وہ افسران خود تعلق رکھتے تھے۔

اس قانون میں سنہ 2015 میں مزید ترامیم کی گئیں جن میں نچلی ذاتوں کے خلاف تعصبات کو ختم کرنے کے مزید سخت اقدام تھے۔

Dalit protesters on the roads in Uttar Pradesh

،تصویر کا ذریعہAFP

دلتوں کو تحفظ کی ضرورت کیوں ہے؟

دلت انڈیا کے بہت ہی کم درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ ہندووں میں ذات پات کا نظام ہے جن میں وہ نچلے مقام پر ہوتے ہیں۔

انڈیا میں دلتوں کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کی موجودگی کے باوجود تقریباً 20 کروڑ دلت شہریوں کو روزانہ کی ہی بنیاد پر متعصب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رسمی طور پر ان دلت کو اونچی سمجھی جانے والی ذاتوں سے الگ تصور کیا جاتا ہے اور انھیں ایک ہی مندر اور سکول جانے کی اجازت نہیں ہوتی جہاں اونچی سمجھی جانے والی ذات کے ہندو جاتے ہوں۔ حتی کہ دلت اس گلاس یا کپ سے پانی اور چائے بھی نہیں پی سکتے جو دوسروں کے استعمال میں ہوں۔

ان کو تعلیم اور ملازمت کے بھی یکساں مواقع میسر نہیں ہیں اور انھیں اکثر استحصال، تعصب، حقارت اور تشدد جسے رویوں کا سامنا رہتا ہے۔

امبیڈکر کا مجسمہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں دلتوں میں تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے

سماجی طور پر متحرک کارکنان کا کہنا ہے کہ دلت کمیونیٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ مندی سے اب ان کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ لیکن اس بات سے اونچی سمجھی جانے والی ذاتوں کی طرف سے ان کے خلاف تشدد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ ان کو یہ بھی قبول نہیں کہ وہ بہتر حالت میں ہوں۔

اشوکا یونیورسٹی کے وائس چئیرمین پرتاپ بھانو مہتا نے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'جہاں دلتوں کی حالت کچھ بہتر ہو رہی ہوتی ہے وہیں تشدد میں اضافہ نظر آتا ہے۔'