غلط مرد سے محبت: ’پہلے دلت شوہر کو والد نے قتل کروا دیا اب دوسرے کے قتل کا خوف‘

،تصویر کا ذریعہNATHAN G
- مصنف, سوامی ناتھن نٹراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے
سارا منظر سی سی ٹی وی کیمرہ میں محفوظ ہوا، ایک جوڑا دن کی روشنی میں پُر ہجوم بازار سے گزر رہا ہے جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ افراد ان کے پاس آئے۔
ان کے پاس لمبے خنجر تھے انھوں نے مرد پر وار کیے اور عورت کے سر پر بھی ضرب لگائی جس کے بعد وہ موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے۔ یہ سب 36 سیکنڈ میں ہوا۔
شنکر نامی مرد ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ جبکہ عورت کوشلیا کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اور انہیں سر پر 36 ٹانکے آئے۔
ان دونوں پر یہ حملہ اس لیے کیا گیا کہ کوشلیا نے معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نچلی ذات کے آدمی سے شادی کی تھی اور اس قتل کا حکم ان کے والد نے دیا تھا۔
کوشلیا بچ گئیں اور انھوں نے اپنے والد کو سلاخوں کے پیچھے بھجوا دیا۔ انھوں نے دوبارہ شادی کر لی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں پھر سے یہی خوف ہے۔
اسی بارے میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذات پات کے لیے قتل
تین سال قبل ہونے والے اس حملے پر اپنے ردِ عمل کی وجہ سے کوشلیا کو جنوبی انڈین ریاست تمل ناڈو میں دلیری اور ہمت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNATHAN G
زخمی حالت میں ہسپتال کے بستر سے کوشلیا نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس حملے کے پیچھے اس کے والدین ہیں۔
پولیس کی تحقیقات سے پتا چلا کہ کوشلیا کے والد نے اس قتل کا حکم دیا اور اس کے لیے رقم بھی دی جو دلت شخص کے ساتھ شادی کے مخالف تھے۔
انڈیا میں دلت افراد کو اچھوت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ انڈین معاشرے میں کم تر ذات سمجھی جاتی ہے اور یہ صدیوں سے معاشرتی استحصال کا شکار ہیں۔
انصاف کی تلاش
کوشلیا سیاسی ساکھ رکھنے والی زمیندار برادری تھیوار سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہندو معاشرے میں اگرچہ یہ سب سے اعلیٰ ذات نہیں لیکن یہ دلتوں سے بر تر سمجھے جاتے ہیں۔
انہیں اس بات پر تیش تھا کہ اب ایک دلت شخص ان کی بیٹی کی وجہ سے تھیوار برادری میں شامل ہوگا۔

اس قاتلانہ حملے اور لگاتار مشکلات نے کوشلیا کی شخصیت بدل دی۔ انھوں نے اس قتل کے مقدمے میں عملی دلچسپی لی اور اپنے والدین کی ضمانت کی مخالفت کے لیے وہ درجنوں بار عدالت میں پیش ہوئی۔
بالآخر ان کے والد چنا سوامی سمیت چھ افراد کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ ان کی والدہ اور دو افراد بری ہو گئے۔
ذات پات کی تفریق
دلت انڈین آبادی کا 20 فیصد ہیں اور بڑے پیمانے پر غربت اور تفریق کا شکار ہیں۔
اگرچہ ان کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی گئی لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سنہ 2016 میں ہی ان کے خلاف کم سے کم 40 ہزار جرائم کے معاملات سامنے آئے۔
کئی صدیوں تک دلتوں کو مندروں اور مخصوص رہائشی علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی انہیں عوامی سہولیات مثلاً گاؤں کا کنواں استعمال کرنے کی اجازت تھی۔
حتی کے آج بھی ان سے جبری طور پر وہ کام کروائے جاتے ہیں جو کوئی نہیں کرنا چاہتا جیسا کہ لیٹرین صاف کرنا اور مردہ جانوروں کو تلف کرنا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعض مثبت اقدامات کی وجہ سے آج دلتوں کو تعلیم اور ملازمتوں کے مواقع میسر ہیں۔ انڈیا کے حالیہ صدر رام ناتھ کوند ایک دلت ہیں۔
ماضی میں دلتوں اور اونچی ذات والوں کے جھگڑے زمین، اجرت، پانی، رہائش اور چُھونے کے معاملات پر ہوتے تھے۔ لیکن آج یہ دوسری ذاتوں میں شادی جیسے مسائل پر ہو رہے ہیں لیکن کوشلیا کی پہلی شادی کی طرح یہ تشدد کا باعث بن سکتے ہیں۔
ذات پات کا نظام
انڈیا میں ذات پات کا نظام روز مرہ کی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیا کھانا ہے، کہاں کھانا ہے اور کس کے ساتھ کھانا ہے جیسے عام معاملات سے لے کر زندگی کے بڑے فیصلوں جیسا کہ شادی، گھر کی خریداری تک کے معاملوں میں اس کا کافی گہرا اثر ہے۔
ذات پات کا نظام ہندوؤں کو چار درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ برہمن، کھشتری، ویش، اور شودر۔
سب سے اعلیٰ رتبے پر برہمن ہیں اور زیادہ تر اساتذہ اور دانشور اسی ذات سے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہندو دیوتا برہما کے سر سے بنے۔
اس کے بعد کھشتری آتے ہیں، یہ حکمراں اور جنگجو ہوتے ہیں جو اس کے بازوں سے نکلے۔ تیسرا درجہ ویش کا ہے اور یہ تاجر ہیں جو اس کے ٹانگ سے نکلے۔
سب سے نچلے درجے پر شودر آتے ہیں جو برہما کے پاؤں سے نکلے اور تمام تر ادنیٰ کام ان کے ذمے آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دلت اس ذات پات کے اس نظام سے بھی باہر ہیں جنہیں اچھوت قرار دیا گیا۔
تمام تر مرکزی ذاتیں مزید 3000 ذاتوں اور پھر ان کی 25000 ذیلی ذاتوں میں منقسم ہیں اور یہ ان کے پیشے کے لحاظ سے ہے۔
ویش برادری انڈیا کے ارب پتی لوگوں پر مشتمل ہے جبکہ برہمن زیادہ تر سول سروس، عدلیہ اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں چھائے ہوئے ہیں۔
دوبارہ شادی
اپنے پہلے شوہر کو کھونے کے بعد کے ذہنی دباؤ اور دکھ کو کم کرنے کے لیے کوشلیا نے ڈرم جیسا پرائی نامی موسیقی کا ایک آلہ سیکھنا شروع کر دیا جو دلت ذات سے منسوب کیا جاتا ہے۔

پرائی سیکھتے ہوئے ان کی ملاقات شکتی سے ہوئی جو یہ اکیڈمی چلاتے تھے۔ کوشلیا نے ان سے نو دسمبر کو شادی کر لی۔ ان کے نئے شوہر بھی دوسری ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔
21 سالہ کوشلیا جو ذات پات کے نطآم کی مخالف ہیں کہتی ہیں ’کئی لوگ ہمیں دعائیں دیتے ہیں لیکن ہمیں کچھ لوگوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ ہمارے خاندان والے اور دوست کافی متفکر ہیں۔‘
’ہم عموماً سوشل میڈیا پر لکھی جانے والی باتوں کو در گزر کر دیتے ہیں لیکن کئی لوگوں سے ہمیں دھمکی ملی ہے۔ کئی تو دوسرے ملکوں میں بیٹھے مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں اور مجھ پر الزام تراشی کرتے ہیں۔‘

جان کی دھمکیاں
جب سے کوشلیا نے ایک دلت سے شادی کی ہے ان کی ذات کے لوگوں نے انہیں اس وجہ سے دھمکیاں دینا شروع کر دیں کیونکہ وہ ان کے بقول ان کی ’ذات کے لیے باعث شرم‘ ہے۔ ان کے پاس اس کے بعد پولیس کا تحفظ مانگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
گذشتہ دو برس سے ایک غیر شادی شدہ خاتون پولیس اہلکار ان کے ساتھ تعینات ہیں۔
لیکن کوشلیا کا کہنا ہے کہ اس کے لیے تعینات کانسٹیبل ان کی شادی کے بعد سے نہیں آئی۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ ان پر ہر جانب سے دباؤ ہے۔
تبدیلی کے لیے دباؤ
ان کا کہنا ہے کہ دھمکیاں اور خوفزدہ کرنا انہیں ان کی اس مہم سے ہٹا نہیں سکتا جس کے تحت وہ ایسے لوگوں کا تحفظ چاہتی ہیں جو اپنی ذات سے باہر شادی کرنا چاہتے ہیں۔

’میری تقریریں سننے کے بعد کئی لوگ کہتے ہیں کہ دوسری ذات میں شادی کے معاملہ پر ان کا نظریہ تبدیل ہوا۔‘
’میں خود کو تبدیلی کا محرک سمجھتی ہوں۔‘









