| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کا نیا آئین، آپ کی رائے
افغانستان کی دستور ساز مجلس نے پہلا آئین بحث کے لئے پیش کردیا ہے۔ یہ نیا آئین نئے سیاسی نظام اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ جو کابل میں منعقدہ ایک تقریب میں ملک کے عبوری صدر حامد کرزئی کے حوالے کیا گیا۔ اب ملک کا لویا جرگہ اس آئین پر اگلے ماہ بحث کا آغاز کرے گا اور اس کو حتمی شکل دے کر اس کی رو سے آئندہ برس ملک میں عام انتخابات منعقد کرائے جاسکیں۔ بارہ ابواب اور ایک سو ساٹھ شِقوں پر مشتمل اس مسودے میں ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا تقاضہ کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی تعلیمات کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا۔ اس مسودے میں شریعت کا ذکر نہیں اور مبصرین کے خیال میں اسلامی نظام کو حتمی شکل دینے کا کام آئندہ ماہ کابل میں دستور ساز جرگے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں آئین سازوں نے اس موضوع کو جان بوجھ کر مبہم چھوڑا ہے اور فی الحال قدامت پسندوں اور آزاد خیال کے درمیان بحث سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ کہ یہ وقتی مسائل پر توجہ تو دے رہے ہیں اور انہیں کو مدنظر رکھ کر آئین سازی کی جا رہی ہے لیکن طویل المدتی مقاصد کو اہمیت نہیں دی جار ہی ہے۔ کیا طالبان کے خاتمے کے بعد جمہوریت کے قیام کے لئے افغانستان کے آئین کو ملک کی روایتی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رکھنے کا جواز موجود ہے؟ کیا آئین کا یہ مسودہ اس جدید ریاست کے تصور سے انحراف ہے جس کی بات افغان صدر کرزئی ہمیشہ کرتے آئے ہیں؟ ----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------ ظفر ملک، دبئی افغانستان کی حالت ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔ یہاں کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ یہاں کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی روایات ہمیں کبھی ایک نقطے پر یکجا نہیں ہونے دیں گی اور یوں ملک مختلف گروہوں میں منقسم ہو جائے گا جو ایک وفاق کے تحت علیحدہ علیحدہ ریاستوں کے قیام پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ جاوید اقبال، جرمنی مجھے افغانستان کے آئین پر دلی مسرت ہے اور میں اس کی ہر چیز سے متفق ہوں۔ البتہ مجھے اس آئین پر عمل درآمد کے بارے میں تشویش ہے کیونکہ افغانستان میں کوئی بھی ملک کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ احمد یار خان کاکڑ بارکزئی، کوئٹہ، پاکستان افغانستان کا آئین، جو محض چند امریکہ نواز لوگوں نے مل کر بنایا ہے، یہ ایک اسلامی حکومت کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اس میں پشتون قبائل کی ستر فیصد آبادی کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ صرف کچھ لوگ جو ضمیر فروش ہیں اور میر صادق اور میر جعفر کے باقیات ہیں ان کو افغان مستقبل کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے۔ شباب علی، پشاور، پاکستان کرزئی حکومت میں تشکیل دیے گئے آئین کی بنیاد حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے جس میں افغانستان کے تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی کا خیال رکھا جائے جن میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ کے باشندے شامل ہیں۔طالبان کے دورِ حکومت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر افغانستان کی باگیں طالبان جیسے مذہبی جنونیوں کے ہاتھ میں دی جاتی ہیں تو وہ اپنے شیعہ حریفوں پر دوبارہ ظلم ڈھائیں گے جس سے ملک میں فرقہ واریت زور پکڑ جائے گی۔ اس لیے میرے خیال میں ملک کا آئین تشکیل دیتے ہوئے مذہب کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے اور افغانستان کو سیکولر اور ترقی پسند ریاست کی شکل میں ابھرنا چاہیے۔ نوراللہ سلیمان خیل، کوئٹہ، پاکستان اختیارات ربانی کے حامیوں کو منتقل کر دینے چاہئیں۔ ڈاکٹر مختار احمد اخوانزادہ، پشاور، پاکستان میرا مطالعہ بتاتا ہے کہ جس ملک کا بھی لمبا چوڑا آئین بنایا جاتا ہے اس پر عمل کم ہی ہوتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال دیکھ لیں۔ اصل ضرورت باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی ہے تاکہ ہر شہری قواعد اور اعلیٰ انسانی اقدار و اخلاق کی پاسداری کرے۔ اسی طرح ملک کا نظم و نسق منظم ہو گا اور قانون کا مقصد بھی یہی ہے۔ علی حسن، مانچیسٹر، برطانیہ میں صرف اپنے لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نیا آئین بہت اچھا ہے اور مجھے امید ہے کہ میرے وطن کو اس سے استحکام حاصل ہوگا۔ محمد اسحاق، اسلام آباد، پاکستان مجھے اپنے ملک کے نیے آئین کا سب کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر افغان کی خواہش ہے کہ اس کے ملک پر قانون کی حکمرانی ہو۔ مجھے اس کے متن سے اتفاق ہے اور میں ان کی اس کوشش کو سراہتا ہوں جنہوں نے یہ آئین تیار کیا۔
ایم بابر، ٹورنٹو، کینیڈا میری افغانستان کے نئے آئین کے بارے میں مثبت رائے ہے لیکن اس میں پارلیمان اور نائب صدر کا کردار واضح نہیں ہے۔ پھر اس میں صدر کو حد سے زیادہ اختیارات دے دیئے گئے ہیں جس سے ایک اور آمر پیدا ہونے کا خدشہ ہے جسے پانچ سال کے لئے منتخب کیا جائےگا اور اگر وہ دوبارہ پانچ سال کے لئے منتخب ہوگیا تو اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ آئین کو بدل کر مرکزی ایشیاء کے دیگر آمروں کی طرح ہمیشہ کے لئے طاقت پر قبضہ کر لے۔ میرے خیال میں اگر صدر کے اختیارات کم کرکے پارلیمان کے اختیارات بڑھا دیئے جائیں اور وزیرِاعظم کو متعارف کرا دیا جائے تو ہمارے ملک کا نظام زیادہ جمہوری ہوجائے گا۔ منیر خان، پشاور، پاکستان اچھی بات ہے کہ افغانستان میں ایک نیا قانون بن رہا ہے کیونکہ اسے درحقیقت اسلامی اورجمہوری قوانین کی ضرورت ہے۔ نعمان احمد، روالپنڈی، پاکستان افغانوں کو آئین کی نہیں، امن و شانتی کی ضرورت ہے۔ اگر افغانستان کو خوشحال بنانا ہے تو اسے قدامت پرست کابلی نظام سے چھٹکارا دلانا ہوگا۔ یہ نظام اپنی بہت سی غلط رسومات کو اسلام کا لبادہ پہنا کر لوگوں پر مسلط کیا جاتا ہے۔ طالبان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نئے آئین میں قدامت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پھر سوال یہ بھی ہے کہ اس آئین کو نافذ کون کرے گا اور اس پر عمل کون کرے گا۔ محمد ثاقب احمد، بہار، بھارت جمہوریت کا قیام اتنا ضروری نہیں جتنا کہ اسلامی قانون کا نفاذ۔ جب اسلام آئے گا تو اپنے آپ ساری برائیاں دور ہو جائیں گی اور ساری اچھائیاں آ جائیں گی۔ طالبان کے خاتمے اور امریکی غلامی کے بعد یہ اور بھی ضروری ہے۔ اب تو مغربی ذرائع اور مبصرین بھی کہنے لگے ہیں کہ طالبان کے دور میں جرائم کی شرح بہت کم تھی۔ آج کوئی شاہراہ، کسی کی عزت اور حقوق محفوظ نہیں، لوٹ اور قتل و غارت گری عام ہے۔ پچھلے دو سال میں کیا ترقی ہوئی ہے سوائے اس کے عالمی کھیلوں اور مقابلہ حسن میں افغانی جسم کو بازارِ حسن کی زینت بنایا گیا۔ جس ملک نے بھی اسلام سے انحراف کیا اور مغربی غلامی کو اپنایا اس نے کیا پایا سوائے اپنی عزت کو نیلام کرنے کے جیسے کہ ترکی، الجزائر اور مصر وغیرہ کے۔ بالکل نہیں، اسلام ہی واحد نظام ہے جسے اپنا کر ترقی کی جا سکتی ہے ورنہ مسلمان ممالک میں بھی ایک چوتھائی بچے پوچھیں گے کہ میرا باپ کون ہے، لاکھوں لڑکیاں شادی سے پہلے ماں بنیں گی اور کوئی شادی سال دو سال سے زیادہ نہیں چل پائے گی، لوگ ہم جنس پرست ہوتے جائینگے اور پھر لوگ کہیں گے نہ خدا ملا نہ وصالِ صنم۔
اظفر خان، ٹورنٹو، کینیڈا یہ کیا ہو رہا ہے، امریکہ کے زیرِ سایہ آئین بنانے والے ایسا لگتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی ہوں۔ یہ تو پاکستانی علماء کا نعرہ تھا کہ کوئی قانون قران وسنت کے منافی نہ ہوگا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ عراق میں بھی ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ کیا اسی لئے کہا گیا تھا کہ ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے کے‘۔ اللہ تعالیٰ امریکہ پر اپنا رحم کرے۔
رحیم اللہ نورزئی، کوئٹہ، پاکستان افغانستان کا نیا آئین تمام افغانوں کے مشورے سے نہیں بنایا گیا۔ اس میں صرف ان افغانوں کو شامل کیا گیا ہے جو یا تو امریکہ کے ساتھ ہیں اور یا شمالی اتحاد کے۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان کے پچاس فیصد سے زیادہ افغان اس نئے آیین کو نہیں مانتے۔ زیادہ تر لوگ اسے امریکی آئین مانتے ہیں۔ سیف، برطانیہ جس شخص نے یہ آئین تیار کروایا ہے اسے ملک پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں اس لئے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ یہ آئین قابلِ عمل ثابت ہوسکے گا۔
ملک اسد اعوان، سرگودھا، پاکستان میں آپ کے سوال سے ہی اختلاف کرتا ہوں کہ کیا پھر وہی اسلام۔ طالبان اور مجاہدین کا دور سامنے رکھ کر کہنا کہ پھر وہی اسلام صریحاً غلط ہے۔ اسلام تو بہت لچک رکھنے والا دین ہے اور اسلام ہی اجتہاد کی بات کرتا ہے۔ اگر قانون بنانے والے جلد بازی کے بجائے باریک بینی سے کام لیں گے تو یہ افغانستان کے لئے اچھا ہوگا اور اس میں اسلام کو اجتہاد کے ساتھ سامنے رکھنا چاہئے۔ افغانستان کی قبائلی روایت کو کسی قیمت پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک خوشحال افغانستان کے لئے ایک ایسا آئین ضروری ہے جو جلال آباد کے پختونوں سے لیکر شمالی اتحاد تک سب کی نمائندگی کرتا ہو۔ نجیب اللہ اچکزئی، پاکستان یہ حکومت میری پسندیدہ حکومت ہے۔ انعام دیوبندی، مانسہرہ، پاکستان افغانستان کے لئے صرف طالبان ہی ٹھیک ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||