BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالی وڈ میں اب ڈبل بھی اصل نہیں
تصویر کا دوسرا رخ؟
ہالی وڈ تکنیکی اعتبار سے ایک ایسی انقلابی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اصل اور نقل کے درمیان فرق کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

سائنسدانوں نے ایسی تکنیک تیار کر لی ہے جہاں ناظرین کے لیے یہ طے کر پانا ممکن نہ ہوگا کہ پردے پر جو اداکار انہیں نظر آرہا ہے وہ اصلی ہے یا کمپیوٹروں کے ذریعہ تیار کی گئی اس کی ڈیجیٹل شبہیہ یا ’ڈبل‘۔

پردہ سیمی پر خلائی طیاروں اور دیو ہیکل مخلوق یا مانسٹرز کی حیرت انگیز حد تک اصل لگنے والی تصاویر پیش کرنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی پہلے بھی استعمال ہوتی رہی ہے لیکن اب بات ذرا آگے بڑھ گئی ہے۔ فلموں میں پہلے جن خطرناک ایکشن مناظر کے لیے ڈبل استعمال کیے جاتے تھے ان کے لیے اب کمپیوٹر گرافکس کا سہارا لیا جائے گا۔ یعنی ایکشن سین سے پہلے اور اس کے بعد تو اصل اداکار ہوں گے لیکن خطرناک کرتبوں کی شوٹنگ کے دوران اداکاروں کی بالکل اصل نظر آنے والی ’گرافک تصاویر‘ استعمال ہوں گی۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلی فورنیا سے وابستہ گرافکس رسرچر ڈاکٹر پال ای ڈیبے ویچ کہتے ہیں کہ ہم فلمی ستاروں کی ہو بہو چلتی پھرتی تصویر بنانے کے بہت قریب ہیں۔

مکی ماؤس کارٹون فلموں کے پہلے سوپر سٹار بنے۔

تو سوال یہ ہے کہ اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ ’ڈیجیٹل ڈبل‘ تیار کرنے کے لیے سب سے پہلے اداکار کو ایک ’فوٹو سیشن‘ کے لیے بیٹھنا پڑتا ہے جس میں انتہائی حساس کیمروں سے اس کے چہرے کے فوٹو کھینچے جاتے ہیں۔

تصاویر کتنی باریکی سے لی جاتی ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں ترانوے کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں اور پانچ سو چھیالس سمت سے چہرے پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

یہ تصایر کمپیوٹروں میں منتقل کی جاتی ہیں اور پھر یہ اس عمل سے گزرتی ہیں جو کارٹون فلمیں بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

فی الحال یہ ٹیکنالوجی ایسے حالات میں کسی سین کو دوبارہ شوٹ کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی جب یا تو فلم کا اداکار دستیاب نہ ہو یا کسی دوسرے رول کے لیے اس نے اپنا حلیہ بدل لیا ہو۔

سائنسدانوں کے مطابق ان تصاویر میں انسانی جذبات بھی نظر آئیں گے۔

تو کیا کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ فلمی اداکاروں کی ضرورت ہی نہ رہے؟

ڈاکٹر ڈیبے ویچ کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ آپ ایک ایسے خیالی کردار کو جنم دیں اور یہ کسی فلم کا مقبول اداکار بن جائے۔

اسی بارے میں
جنسی کشش میں جولی آگے
25 February, 2007 | فن فنکار
میڈونا کا عالمی دورہ شروع
25 August, 2008 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد