فیشن ڈیزائنر ایو ساں لاریں نہ رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایو ساں لاریں جن کو بیسویں صدی کا سب سے نمایاں فیشن ڈیزائنر مانا جاتا ہے، اکہتر سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ایو ساں لاریں کا انتقال اتوار کے روز پیرس میں ہوا۔ ایو ساں لاریں نے فیشن انڈسری کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا اور عورتوں میں مردوں جیسے ملبوسات کو مشہور کرانا ان کی اہم کامیابی ہے۔ ایو سال لاریں نے اکیس سال کی عمر میں فیشن ہاؤس ڈائور سے اپنا تعلق جوڑا اور ایسے ملبوسات متعارف کرائے جن میں عورتوں کی آزادی کے تصور کو اجاگر کیا۔ ایو ساں لاریں نے خرابی صحت کی بنا پر سنہ دو ہزار دو میں فیشن کی صنعت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ایو ساں لاریں جو الجزائر کے شہر ایواں میں پیدا ہوئے انہیں بچپن سے ہم جنسیت کےطعنے برادشت کرنے پڑے۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے ایو ساں لوریں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمال کی جدت پسندی نے فیشن کی صنعت کو آرٹ کے درجے پر پہنچا دیا۔ ایو ساں لاریں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عورت کے جسم کے لیے ڈیزآئن کیا جس سے وہ اپنا سٹائل بنانے میں کامیاب ہوئے۔ بی بی سی کی آرٹس کی نامہ نگار رضیہ اقبال کا کہنا ہے کہ ساں لوریں نے عورتوں کے لیے ٹراؤزر سوٹ، سفاری جیکٹ اور سویٹر متعارف کرائے۔ ساں ایو لاریں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑے بڑے فلمی ستارے ان کے گرد گھومتے نظر آتے تھے اور ان کے ڈیزآئن نوجوان نسل میں انتہائی مقبول تھے۔ ایو ساں لاریں کی جدت پسندی نے عورت کی شخصیت کو اور بھی باوقار بنایا۔ ایو ساں لاریں اس بات پر قائل تھے کہ خوبصورت نظر آنا عورت اور مرد دونوں کا حق ہے۔ ایو ساں لاریں کی سابقہ ساتھی پیر برج نے ریڈیو فرانس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایو ساں لاریں نے عورتوں کو آزاد کرایا اور ہمیشہ ’ معاشرے کی ٹانگوں پر بم گرائے‘۔ پچاس کی دہائی میں ایو ساں لاریں کے پہلے ڈیزائنوں نے معاشرے میں ہیجان کی کیفت پیدا کر دی ایو ساں لاریں ساری زندگی ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا رہے اور تقریبات میں بہت کم نظر آئے۔ | اسی بارے میں فیشن اور جینے کا سلیقہ25 October, 2004 | Debate مونگیر سے میلان تک 24 April, 2005 | انڈیا ہر کوئی’کول‘ نظر آنا چاہتا ہے 19.05.2003 | صفحۂ اول بمبئی میں ہفتہ فیشن18.07.2003 | صفحۂ اول ’شہرت کی قیمت چکانی پڑی‘ 03 January, 2008 | انڈیا سابق خاتون اول اب فیشن ڈیزائنر07 November, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||