BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 May, 2008, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطی میں خونریزی پر فلم
یہ فلم فوجی کی آپ بیتی پر مبنی ہے
فلمی صنعت کے بین الاقوامی میلے ’ کینز فلم فیسٹیول‘ میں ’پالم ڈی او‘ ایوارڈ حاصل کرنے کی دوڑ میں مشرق وسطی میں فلسطینیوں کے قتل عام پر بنائی گئی ایک ’اینیمیٹڈ‘ دستاویزی اول نمبر پر ہے۔

’والٹ ود بشیر‘ کے نام سے یہ فلم ہدایت کار ایئر فولمان نے بنائی ہے جو اسرائیل فوج میں اپنی ملازمت کے دوران انیس سو بیاسی میں لبنان حملے کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم کے عینی شاہد ہیں۔

انیس سو بیاسی میں آپریشن ’پیس فار گلیلی‘ کے نام سے لبنان پر اسرائیلی فوج کا حملہ دراصل دارالحکومت بیروت تک قبضہ کرنے کی کوشش تھی۔

اس آپریشن کے بعد لبنان میں پندرہ سال سے جاری خانہ جنگی اور بدترین مظالم ختم ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے اس حملےمیں صابرہ اور شتیلہ کے پناہگزیں کیمپوں میں آٹھ سو کے قریب شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

فلسطینیوں کا یہ قتل عام اسرائیل کی حمایت یافتہ لبنانی عیسائی ملیشیاء نے کیا تھا جبکہ اسرائیلی فوج ان کے ساتھ کھڑی تھی۔

فلم سازی سے پہلے اسرائیلی فوجیوں سے بات کی گئی

فولمان بھی اسرائیلی فوج میں شامل تھے۔ ان کی یہ فلم ان کے ذاتی سفر پر مبنی ہے اور اس میں انہوں نے ہی پس منظر میں صدا کاری کی ہے اور فلم کی کہانی بیان کی ہے۔

فولمان کا کہنا ہے انہوں نے اس قتل عام کی خوفناک یادوں کو اپنے ذہن میں دفن کر دیا تھا لیکن یہ فلم بناتے وقت انہیں سب کو دوبارہ یاد کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ’ انہیں اب یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ میں استعمال ہوا گیا۔ ہم سب استعمال ہوگئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آپ اٹھارہ سال کے ہیں، آپ کو وہاں بھیجا جاتا ہے، آپ وہاں جہاز میں جاتے ہیں اور آپ بیروت کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔‘

’اب جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو زیادہ غصہ اور رنج ہوتا ہے جتنا مجھ فلم بنانے سے پہلے آتا تھا۔ شائد اس لیے کہ اب میں نے شادی کر لی ہے اور میرے تین بیٹے ہیں میں انہیں دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں انہیں وہ کچھ نہیں کرنے دوں گا جو میں نے کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ فلم ان چیزوں میں شامل ہے جو میں ان کو یہ سمجھانے کے لیے کر رہا ہوں کہ کبھی کس قسم کے تشدد میں حصہ نہ لینا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس فلم میں سہ جہتی تیکنک استمعال کی گئی ہے جو ماروائے حقیقت لگتی ہے۔

کینز کے فلمی میلے میں اس فلم نے ناقدین کی توجہ حاصل کر لی ہے اور اسے ایک واضح اور سیاسی طور پر دھماکہ خیز فلم قرار دیا جا رہا ہے۔

فلم سازی کے دوران فولمان نے کئی ساتھی فوجیوں کے انٹرویز کیئے جنہوں نے صابرہ اور شیتلہ کے کیمپوں کی یاد کو دبا دیا تھا۔

ان کو مفصل طور پر سننے کے بعد ان کے ٹوٹی پھوٹی یادوں کو جوڑ کر فلم بنائی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد