 | | | نائن اولڈ مین میں اولی جانسٹن بائیں جانب سے پانچویں نمبر پر |
والٹ ڈزنی کارٹونوں کے ’سنہرے دور‘ کے فنکاروں کی آخری نشانی اولی جانسٹن پچانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ ’نائن اولڈ مین‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ڈزنی فنکاروں کے نامور گروپ کے آخری حیات رکن تھے۔ ان کی فلموں میں سنو وائٹ اور سیون ڈوارفز، پنوچیو اور پیٹر پین شامل ہیں۔ والٹ ڈزنی کے بھتیجے روئے ڈزنی کے مطابق ’اولی فنکاروں کی ایک شاندار نسل سے تعلق رکھتے تھے، وہ ہمارے فن کے بانیوں میں سے تھے۔‘ اولی جانسٹن نے لاس اینجلس کے کوئینرڈ آرٹ انسٹیٹیوٹ سے تعلیم حاصل کی اور انیس سو پینتیس میں ترقی پذیر ڈزنی سٹوڈیو نے مکیز گارڈنز، پلوٹوز ججمنٹ اور مکیز رائیول جیسے کارٹونوں پر کام کرنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کر لیں۔ ان کی پہلی فیچر فلم سنو وائٹ اور سیون ڈوارفز تھی جو انیس سو سینتیس میں تیار ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ڈزنی کی اینیمیٹڈ (خاکوں پر مبنی) فلموں  | ناقابل فراموش  ان کے بنائے گئے مشہور مناظر میں بامبی کی ماں کی شکاری کے ہاتھوں دل دکھا دینے والی ہلاکت کا منظر شامل ہے  |
فینٹیسیا، سینڈریلا، لیڈی اینڈ ٹریمپ، سلیپنگ بیوٹی اور جنگل بُک پر کام کیا۔ ان کے بنائے گئے مشہور مناظر میں بامبی کی ماں کی شکاری کے ہاتھوں دل دکھا دینے والی ہلاکت کا منظر شامل ہے۔ اولی جانسٹن نے جنوری انیس سو اٹھہتر میں ریٹائرمنٹ لے کر خود کو تحریر و تصنیف، تدریس اور مشاورت کے لیے وقف کر دیا۔ سال انیس سو انانوے میں انہیں ڈزنی لیجنڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ سنہ دو ہزار تین میں اکیڈیمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی۔ سال دو ہزار پانچ میں انہیں نیشنل میڈل آف آرٹس سے نوازا گیا، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اپنے شعبے کے پہلے فنکار تھے۔ اولی جانسٹس کا انتقال ریاست واشنگٹن میں ہوا۔ انہوں نے پسماندگان میں بیٹے کین اور رِک چھوڑے ہیں۔ |