ہیرو جی شوٹنگ کروگے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ کسی بھی فلم کے ہیرو، ہیروئین، ہدایت کار، موسیقار اور گلوکار کو تو خوب جانتے ہوں گے۔ لیکن کیا ہیروئین کے ساتھ ناچنے والی بیسیوں لڑکیوں یا ہیرو کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے تعاقب میں گھوڑا دوڑانے والے پانچ چھ بہادر ساتھیوں یا چلتی ٹرین پر ایک بوگی سے دوسری بوگی پر چھلانگ لگاتے ہوئے دشمن کی گولیوں سے بچنے کے لئے ہوا میں پانچ پانچ قلابازیاں لگا کر کھڑکی کا شیشہ توڑ کر ولن کو دبوچنے والے سٹنٹ مین یا ہیرو کے ڈپلی کیٹ سمیت کسی بھی ایکسٹرا اداکار کا نام بتا سکتے ہیں؟ مشکل سوال ہے نا؟ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایکسٹرا دراصل بنیاد کےوہ دکھائی نہ دینے والے اینٹ پتھر ہیں جن پر فلمی دنیا کی عظیم الشان عمارت کھڑی نظر آتی ہے۔ میں نے لاہور جا کر انہی فالتو فلمی کرداروں کی زندگی میں جھانکنے کی کوشش کی۔ لاہور کے سب سے معروف فلمی سٹوڈیو ایورنیو میں داخل ہوتے ہوئے مجھے چار فٹ قد کا پیار علی ماچس پر اپنی ہی کمپوزیشن بجاتے ہوئے یہ گیت گاتا نظر آیا: کالیا بلیا ، کیوں کرنا ایں میوں میوں میوں میوں فلموں میں ہیرو اور ہیروئین بن کر لوگوں کے دلوں پر راج کرنے کا خواب لئے پاکستان کےمختلف علاقوں سے سینکڑوں لوگ لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم کی قسمت کی لاٹری کھلتی ہے۔ مرحوم سلطان راہی کے ڈپلکیٹ فائٹر اور سٹنٹ مین حق نواز جسے پنجابی اور اردو فلمیں بنانے والا ہر ڈائریکٹر کبھی سر آنکھوں پر بٹھاتا تھا اب پیسے پیسے کا محتاج ہے۔ کانوں میں مولا جٹ سٹائل کی بڑی بڑی بالیاں پہنے، سرخ ریشمی لاچے اور لمبے کرتے میں ملبوس چھ سوا چھ فٹ کے حق نواز کی آنکھوں میں اب کسی گبھرو جوان ہیرو کی چمک باقی نہیں رہی۔ ’میں لاہور میں فلمی لائن میں کھڑا ہونے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ داتا صاحب کو سلام کرنے آیا تھا۔ وہاں سے میرا ایک دوست مجھے سٹوڈیو لے آیا۔ سٹوڈیو کے باہر ایکسٹرا سپلائرز کھڑے تھے انہوں نے پوچھا ہیرو جی شوٹنگ کریں گے؟ معلوم نہیں وہ کونسا لمحہ تھا، میں نے بھی کام کرنے کی حامی بھرلی۔ کپڑے بدلےاور شوٹنگ شروع ہو گئی۔میں خود سے پوچھتا رہا کہ کیا میں واقعی ہیرو بن گیا ہوں۔ آج بھی میں خود سے پوچھتا ہوں ہیرو جی سائے کی طرح ساری زندگی کیوں گزار دی۔
اپنے جسم پر لگے زخموں کے نشان دکھاتے ہوئے حق نواز نے بتایا کہ ’یہ سب چوٹیں مجھے ڈپلی کیٹ کردار کرتے ہوئے، پہاڑوں سے چھلانگ لگاتے ہوئے، شیشہ توڑتے ہوئے، گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے لگی ہیں۔ ہماری جان کی قیمت یا انشورنس تو دور کی بات ہے کوئی یہ تک نہیں پوچھتا کہ زندہ ہو یا مر گئے۔یہاں اب سب کو اپنی فکر لگی ہوئی ہے کہ بس میرے بچے کھا لیں دوسرے کے بچے نہ کھائیں۔ ماضی کی معروف اداکارہ شبنم کا ڈپلی کیٹ بننے والی نشیلی آج بھی گزرے کل کے نشے میں رہتی ہے۔ ’اب بھی میری تصویریں دیکھیں تو آپ کہیں گی کہ نہیں آنٹی یہ آپ کی نہیں بلکہ شبنم کی تصویر ہے۔ رونا دھونا بھی مجھ سے زیادہ کوئی نہیں کر سکتا۔میں نے رونے کے لیے کبھی آنکھوں میں گلیسرین نہیں ڈالی۔ بس آٹومیٹک رو پڑتی ہوں۔ میں نے میڈم سنگیتا کی فلموں میں رونے دھونے والے بہت کردار کیے ہیں۔ مگر کوئی بھی اچھا یا بولنے والا کردار نہیں دیتا۔ہم تو بوڑھے ہو کر بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اب بھی کام کرنے کا حوصلہ ہے۔لیکن ان لوگوں کے آگے ہم بول ہی نہیں سکتے۔ ’پشتو فلموں کے اولین ہیرو بدر منیر ایک عام ورکر تھے لیکن بعد میں بہت بڑے سٹار بنے۔ سلطان راہی مرحوم نے بطور فائٹر دس روپے سے کام شروع کیا تھا۔ اسی طرح یاسمین خان بھی ڈانس کورسز میں کام کرتی تھیں۔روزینہ کی بھی یہی کہانی ہے۔ شفقت چیمہ بھی فائٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد ہی وہ پنجابی فلموں کے واحد ولن بن گئے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ ایورنیو سٹوڈیو میں ایک اصطلاح میں نے بار بار سنی ۔’ایکسٹرا سپلائر،۔ یہ وہ کمیشن ایجنٹ یا ٹھیکیدار ہوتے ہیں جو معاون اداکار، رقاصائیں، ڈپلی کیٹ ، فائٹر اور سٹنٹ مین اور ورکرسپلائی کرتے ہیں اور خود کو فلمی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتے ہیں۔مگر پندرہ سال سے فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرنے والی ذکیہ مختار ان سپلائرز کو خون پینے والی جونک کہتی ہے ۔ ’جب میں بچپن میں فلمیں دیکھتی تھی تو بڑی خواہش تھی کہ جیسے بڑی سکرین پر یہ ہیروئنیں آتی ہیں ۔ہو سکتا ہے مجھے بھی کبھی چانس مل جائے۔ اللہ کے گھر میں آخر کس چیز کی کمی ہے۔لیکن ہم لوگ بس ایکسٹرا ہی رہے ہمیشہ۔ ہمیں ایکسٹرا سپلائیر ایک شوٹنگ کی صرف دو سو روپے دہاڑی دیتاہے۔ یہ بھی مشکل سے ایک ساتھ ملتے ہیں۔ اکثر معاوضےکے لیے ایکسٹرا سپلائرز کے پیچھے ہی پھرتے رہتے ہیں۔اور وہ کل آنا ، پرسوں آنا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ حالانکہ شوٹنگ کے لئے شادیوں کے کپڑے، لاچے کرتے، پینٹ شرٹ یہاں تک کہ نرسوں کا یونیفارم بھی ہمیں خود سے سیٹ پر پہن کر آنا پڑتا ہے۔ کبھی پولیس والی کا کردار کرنا ہو تو یہ واحد وردی ہے جو یونٹ کی طرف سے ملتی ہے۔
’حقیقت یہ ہے کہ جتنے پیسے ملتے ہیں اس میں ہم صرف پچاس روپے کمیشن رکھتے ہیں باقی سب ایکسٹراز کو ملتا ہے۔ انہیں گھر سے شوٹنگ پر لانا لے جانا، کھلانا پلانا، سیوا کرنا سب ہماری ذمہ داری ہے۔ یہاں کوئی بھی عورت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ملک اکبر کے پاس اس کے پیسے پھنسے ہوئے ہیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ ان کے معاوضے وقت پر ادا کرنے کے لیے میں نے اپنی گھر والی کی بالیاں تک بیچ دیں۔ میں ایورنیو سٹوڈیوز سے باہر نکل رہی تھی تو چار فٹ کے پیار علی پر ایک بار پھر نگاہ پڑی جو چار پانچ لوگوں کو ڈائیلاگ سنا کر محظوظ کررہا تھا۔ ’اور مارو۔۔اور مارو وکٹر۔۔۔۔مگر ایک بات یاد رکھو وکٹر۔۔۔۔۔جس دن ہمارا ضمانت ہوگا۔وہ دن تمہارے لیے قیامت ہوگا۔۔۔قیامت ہوگا وکٹر۔۔۔۔۔قیامت۔۔۔۔ تیس برس سے وہ یہی کررہا ہے۔لوگ خوش ہوکر یا ترس کھا کر پیار علی کی جیب میں کچھ پیسے ٹھونس دیتے ہیں۔ مگر چانس پھر بھی نہیں ملتا۔ معلوم نہیں پیار علی بدقسمت ہے جسے چانس نہیں ملا یا وہ بدقسمت ہیں جنہیں چانس بھی ملا تو بطور ایکسٹرا۔۔۔۔۔۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||