چینی فلم کو گولڈن بیئر اعزاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک چینی فلم ’تویاز میرج (Tuya's Marriage)‘ کو برلن فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کے سب سے بڑے اعزاز’گولڈن بیئر‘ سے نوازا گیا ہے۔ یہ فلم ایک خاتون کی زندگی پر مبنی ہے جو چین کی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنج کا سامنا کرتی ہے۔ ’تویاز میرج‘ میں اس خاتون کو اندرونی منگولیا کی چراہگاہوں میں اپنے خاندان کے لیے زندگی کی جد و جہد کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ہدایت کار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ چین کی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دیہاتوں کے لوگ اپنا مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس فلم کے لیے اعزاز حاصل کرتے وقت ہدایت کار وانگ قوانان نے کہا کہ چینی سال نو پر اس سے اچھا انعام ان کے لیے کیا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’ایک خوبصورت خواب یہاں میرے لیے حقیقت بن گیا ہے۔‘ وانگ نے مزید کہا کہ ’در حقیقت لوگ شہروں میں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔‘ چین میں لوگ نئے چینی سال کی خوشیاں منارہے ہیں جسے ’سؤر کا سال‘ کہا جاتا ہے اور یہ خوش قسمتی کا خصوصی سال ہے جو چھ عشرے میں پہلی بار آیا ہے۔ گیارہ دنوں تک جاری رہنے والے برلن فلم فیسٹیول کے آخری دن سنیچر کو اعزازات کا اعلان کیا گیا۔ بہترین ہدایت کار کا اعزاز جوزف سیڈر کو مشرق وسطی میں جنگ سے متعلق ان کی فلم ’بوفورٹ‘ کے لیے دیا گیا۔ بہترین اداکار کا اعزاز ارجینٹینا کے جولیو شاویز کو ’دی ادر‘ میں ان کے کردار کے لیے دیا گیا جبکہ جرمنی کی نینا ہاس نے ییلا میں اپنے کردار کے لیے بہترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ’تویاز میرج‘ کوبہترین فلم کا ایوارڈ ملنے پر ناقدین اور صحافیوں کو کچھ تعجب ہوا۔برلن فلم فیسٹیول میں 370 سے زائد فلمیں دکھائی گئیں۔ | اسی بارے میں چینی فلم میں عریانیت پر بحث 22 December, 2006 | فن فنکار بریڈ پٹ کی ’ٹرائے‘ ریلیز 10 May, 2004 | فن فنکار برلن میلہ: بوسنیا کی فلم جیت گئی 20 February, 2006 | فن فنکار ماریہ کو ’مس میڈیا‘ کا خطاب09 September, 2006 | فن فنکار انٹرنیٹ: موسیقی کے ستاروں کی امید 13 September, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||