BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 September, 2006, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماریہ کو ’مس میڈیا‘ کا خطاب

پاکستانی نژاد امریکی نے ’مس بکنی‘ کے مقابلے میں پاکستان کی طرف سے شرکت کی
پاکستانی نژاد امریکی شہریت رکھنے والی بائیس سالہ ماریہ موتن چین میں ہونے والا 'مس بکنی' کا مقابلہ نہیں جیت سکیں۔

پاکستان کی نمائندہ کہلوانے کی وجہ سے اس مقابلے میں شریک لڑکیوں میں سب سے زیادہ میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں اور انہیں ’مس میڈیا‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔

بکنی مقابلے کی تصاویر دیکھنے کے لیئے کلک کریں
چین میں منعقدہ عالمی مقابلہ میں پاکستانی نژاد کینیڈین سونیا احمد نے ماریہ موتن کی مینیجر اور ترجمان کے فرائض بھی سرانجام دیئے- سونیا نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قانون اس کے شہریوں کو دوہری شہریت رکھنے کا حق دیتا ہے- ماریہ موتن نے چین کا سفر پاکستانی پاسپورٹ پر کیا ہے۔

مس بکنی کے مقابلوں میں ماریہ موتن کوتین ہزار امریکی ڈالر اور خصوصی ایوارڈ دیا گیا - اس موقع پر پچاس ہزار تماشائی موجود تھے۔

ماریہ موتن اس سال نومبر کے مہینے میں پاکستان جائیں گی- امریکی شہریت رکھنے کے باوجود وہ پاکستانی پاسپورٹ پر ہی سفر کریں گی-

سونیا احمد نے ماریہ موتن کا پیغام پاکستانی خواتین کو دیتے ہوئے کہا کہ
’ کوشش جاری رکھو اور بریک دی بیرئیر‘۔ انہوں نے کہا کہ اچھے لوگوں کی بڑی تعداد اس ملک میں موجود ہے اورپاکستان کو صرف اسلامی ملک نہ سمجھا جائے۔

’پاکستانی جھنڈا قومی ہے نہ کہ مذہبی لہذا اس جھنڈے کو مذہبی رسومات کا حصہ نہ بنایا جائے- 1981 کے بعد پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں– ہمیں بیرون ملک پاکستانی ثقافت کو حقیقی معنوں میں پیش کرنا ہے۔ ھم 1960 والا پاکستان واپس دیکھنا چاہتے ہیں‘-

انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی نژاد حسینہ کی شرکت کے بعد ہمیں بے پناہ ای میلز اور پیغامات موصول ہوئے ہیں۔’ ھم پاکستانی ہیں اور کوئی بھی ہمیں اس سے الگ نہیں کر سکتا‘-

مسلم دنیا کے دیگر ممالک مصر،لبنان، ملایشیا کی حسینائیں بھی ان مقابلوں میں آتی ہیں۔ صرف پاکستان کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے-

سونیا نے بتایا کہ سن 2002 سےمس پاکستان ورلڈ کا باقاعدہ دفتر پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہے اور اس دفتر کو سیکیورٹی کے پیش نظر ابھی ظاہر نہیں کیا گیا- اگراس دفتر کو ظاہر کردیا جاتا تو ابھی تک اس کو بم سے اڑا دیا گیا ھوتا۔

پاکستان کےنام پر ہر کام کے لیئے لائسنس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے- ہم نے کچھ غلط نہیں کیا مگر کچھ مذھبی حلقے مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ سونیا احمد مستقبل میں پاکستان میں مس پاکستان یونیورس کا مقابلہ حسن منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں-

’ہم مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں اور لیتے رہیں گے۔اس سال کے آخر تک پاکستانی حسینائیں تمام عالمی مقابلوں میں شرکت کیا کریں گی‘-

اسی بارے میں
شوقیہ فلموں کا میلہ
09 September, 2006 | فن فنکار
افغان حسینہ نے بازی جیت لی
04 September, 2005 | آس پاس
ملکہ حسن کی بلیئر پر تنقید
31 August, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد