BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملکہ حسن کی بلیئر پر تنقید
ہماسہ کوہستانی
ہماسہ کوہستانی نے حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو دقیانوس کہہ رہے ہیں
برطانیہ کی پہلی مسلمان ملکہ حسن نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لندن میں بم دھماکوں کے بعد اسلام کے خلاف نفرت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

19 سالہ ہماسہ کوہستانی کا کہنا ہے کہ سات جولائی کے بم دھماکوں کے بعد سے جاری ہونے والے حکومتی بیانات نے مسلمانوں کے خلاف منفی تاثرات پیدا کیے ہیں جبکہ ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان حلقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ہماسہ کوہستانی نے دسمبر میں چین میں ہونے والے ملکہ حسن کے فائنل مقابلے میں برطانیہ کی نمائندگی کی تھی۔انہوں نے یہ بات چیت مغربی لندن میں موجود کالج آکسبریج میں واپس آ کر کی جہاں سے وہ اے لیول کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ٹونی بلیئر نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اندر موجود مسائل کو ختم کریں۔ یہ مسلمانوں کو دقیانوسی بنا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ اعتدال پسند مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر قائم کیا جا رہا ہے اور وہ یہ سمھجتے ہیں کہ انہیں اس بات پر ایکشن لے کر اپنے آپ کو منوانا ہو گا‘۔

وزیر اعظم نے اراکینِ پارلیمنٹ کو اس سال جولائی میں کہا تھا کہ اعتدال پسند مسلمان انتہا پسندوں کے مسائل کا حل نکالنے کا لیے مناسب کام نہیں کر رہے۔

ہماسہ کوہستانی کا خاندان طالبان کے دورِ حکومت میں ہجرت کرکے برطانیہ آ گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن میں یہ خود کش حملے ان لوگوں کے چہروں پر تھپڑ ہیں جن کا یہ خیال تھا کہ برطانیہ میں کبھی یہ ظلم ڈھایا نہیں جا سکتا۔

جب 2005 میں ہماسہ کو ملکہ برطانیہ کا تاج پہنایا گیا تھا تو اس پر کئی قدامت پسند مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

پوری دنیا میں ایک سال گھومنے اور دنیا بھر کے اخباروں اور رسالوں میں آنے کے بعد ہماسہ اب برطانیہ واپس آ کر اپنی پڑھائی کے سلسلے کو دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پڑھائی ا ن کی اولین ترجیح ہے اور اب وہ ماڈلنگ کا کام بہت انتحاب کے بعد کریں گی۔

ملکہ حسن جو کہ چار زبانوں پر عبور رکھتی ہیں میڈیا سائنس، عمرانیات، اور سیاست کی تعلیم حاصل کریں گی۔

ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی اینڈ لوکل گورنمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ ہم مسلمان برادری کے ساتھ مضبوط اور پراعتماد تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں روتھ کیلی ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انتہا پسندی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے اور ہم ایسے کسی دعوے کو نہیں مانتے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہے‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مختلف مسلمان تنظیموں نے وزراہ کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں انتہا پسندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں
افغان حسینہ نے بازی جیت لی
04 September, 2005 | آس پاس
کابل کا حسن
30 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد