ملکہ حسن برطانیہ کے نئے عزائم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمر پر پھیلے ہوے لمبے خوبصورت بال، شاندار میک اپ، اور پروقار انداز۔ مس انگلینڈ 2005 میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو کسی بھی ملکہ حسن میں ہونی چاہئیں۔ لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ وہ ملکہ حسن کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد آنے والے برسوں میں کیا منصوبے رکھتی ہیں تو ہماسہ کوہستانی کا جواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جتنی اچھی ان کی تربیت کی گئی ہے اتنی ہی وہ اپنے کام کے بارے میں آگاہی رکھتی ہیں۔ دنیا کو پر امن بنانے کے لیےان کے ذہن میں کوئی غیر واضح خواہشات نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد پاکستان میں بچوں کی ناخواندگی کو کم کرنا، ایک خیراتی ادارے سے کام سیکھنا اور اپنے آبائی وطن افغانستان میں این جی او قائم کرنا ہے۔ وہ افغانستان سے اپنی جلا وطنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جن لوگوں کا پس منظر مجھ جیسا ہے انھیں تعلیم کی سہولت اتنی آسانی سے میسر نہیں اتی‘۔ اگر وہ افغانستان میں ہی اپنا بچپن گزارتیں، جہاں پر طالبان کی حکومت تھی تو یہ بات ممکن نہ تھی کہ وہ سکول بھی جا سکتیں لیکن آج وہ نہ صرف کئی زبانوں پر عبور رکھتی ہیں بلکہ اپنے اے لیول میں وہ تین کی بجائے چار زبانیں پڑھ رہی ہیں۔ راولپنڈی کے ایک سکول میں بچوں میں گھری ہوئی ہماسہ اس بات کو سوچ کر جزباتی ہو جاتی ہیں کہ اپنے بچپن میں اگر وہ جلا وطن نہ ہوتی تو تعلیم سے محروم رہ جاتیں۔ وہ زندگی نامی ٹرسٹ کے زیر انتظام ایک سکول کی دورے پر ہیں۔ اس ٹرسٹ کے کارکن ملک کے غریب ترین علاقوں میں جا کر مزدوری کرنے والے بچوں کو بنیادی تعلیم کی سہولت دے رہے ہیں۔
ان بچوں کے گھریلو ساختہ تحفے لیتے ہوئے وہ یہ بات جانتی ہں کہ کچھ ہی گھنٹوں میں یہ بچے اپنی جماعتوں سے نکل کر اپنے کام کی طرف لوٹ جائیں گے جس سے انہیں بہت کم پیسے ملتے ہیں اور کئی صورتوں میں کام بھی خطرناک ہوتا ہے۔ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میرے لیے یہ دیکھنا بہت دشوار ہے کہ اپنی جماعتوں میں اتنا خوش ہونے کے باوجود ابھی کچھ ہی دیر میں یہ بچے گلیوں میں کام کرنے کے لیے دوبارہ لوٹ جائیں گے‘۔ جب تک زندگی ٹرسٹ نے ان بچوں کے والدین سے رابطہ نہیں کیا تھا ان میں سے کوئی بھی بچہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا۔ آہستہ آہستہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ مزدوری چھوڑ کر مکمل طور پر تعلیم سے وابسطہ ہوں اور کوئی ہنر سیکھیں جس کے بعد وہ بڑے ہو کر اچھے پیسے کما سکیں گے۔ اس بات کی کوشش میں کہ ان بچوں کو تعلیم دی جائے اکثر خاندان اپنی آمدن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے زندگی ٹرسٹ ہر بچے کو ایک دن پڑھائی کے لیے بیس روپے دیتی ہے۔اس رقم سے سات روٹیاں اور آدھا کلو چینی خریدی جا سکتی ہے لیکن یہ رقم ان بچوں کو روز ملنے والی دیہاڑی سے اکثر زیادہ ہوتی ہے۔
ٹرسٹ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ تیرہ سالہ وحید اختر جیسے لڑکوں کو تعلیم کی سہولت دے۔ وحید کا کہنا ہے کہ ’میری خواہش ہے کہ سب بچوں کو یہ سہولت دی جائے۔ میں یہاں صرف اس لیے پڑھ سکتا ہوں چونکہ میں اس کے ساتھ کام بھی کرتا ہوں‘۔ حالات کی تنگی کے باعث وحید کے پاس اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے اس لیے وہ سکول سے پہلے اور بعد میں آٹھ گھنٹے کشن بنانے اور صوفوں کی بھرائی کا کام کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بچے وحید کی طرح کام کرتے ہیں۔اور ان میں سے بیشتر بالکل بھی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ اور تعلیم کے بغیر اچھی ملازمت ملنا ناممکن ہے۔ ہماسہ کی کوشش ہے کہ وہ افغانستان کے بچوں کو بھی اسی طرح کے منحوس چکر سے نکالے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی بچوں کے لیے زندگی ٹرسٹ تو ہے لیکن افغانی بچوں کے لیے ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے‘۔ بطور مس انگلینڈان کا سال پورا ہو چکا ہے لیکن وہ اس کے باوجود اپنا رفاہی کام جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ اسی لیے جب افغانستان کے حالات بہتر ہو جائیں گے تو وہ وہاں پر یہ کام شروع کریں گی۔
جب تک وہ عطیات جمع کرنے کے لیے اپنی صلاحیت بہتر کر رہی ہیں وہ یہ چاہتی ہیں کہ لوگوں کے خیالات ان کے بارےمیں ملکہ حسن ہونے کے حوالے سے بدل جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں افغانی خاتون ہونے کے ناتے سے تعلیم حاصل کرنے کی سراتہی ہوں۔ لوگ ملکہ حسن اور ماڈلز کو ایک جیسا سجھتے ہیں اور ان کے خیال میں، میں کند ذہن ہوں۔‘ لیکن ہماسہ کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ چھ زبانوں میں بات کر سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں سنڈریلا سب سے آگے12 July, 2004 | فن فنکار مس پیرو مقابلہ حسن جیت گئیں04 December, 2004 | فن فنکار سونامی متاثرین کے لیے پاپ البم01 January, 2005 | فن فنکار افغان مسلمان حسینہ برطانیہ کی نمائندہ 10 December, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||