ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حکومت نے پہلے ان پر سنیما گھروں کے باہر بڑی تصاویر لگانے کی پابندی لگا چکی ہے |
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے رمضان المبارک کے پیش نظر صوبائی دارلحکومت پشاور میں تمام سنیما گھر بند کروا دیئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے ایک خط کے ذریعے شہر کے تقریبا ایک درجن سنیما گھروں کو رمضان کے دوران فلمیں نہ دکھانے کا حکم دیا تھا۔ ایک سنیما مالک کے مطابق یہ خط انہیں صوبائی وزیر برائے مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کی جانب سے ملا تھا جبکہ دیگر اطلاعات کے مطابق یہ مراسلہ انہیں ایکسایز اینڈ ٹیکسیشن کے جانب سے جاری ہوا تھا۔ اس بابت سنیما مالکان کے ایک وفد نے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق اور ایم ایم اے کے دیگر اراکین سے بھی ملاقاتیں کیں اور حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ سنیما گھر پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں اور اس فیصلے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
 | | | سنیما مالکان کے ایک وفد نے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق اور ایم ایم اے کے دیگر اراکین سے بھی ملاقاتیں کیں |
البتہ صوبائی حکومت نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا اور سنیما گھر کے مالکان کو یہ فیصلہ ماننا پڑا ہے۔ شہر کے تمام سنیما آج سے عید الفطر تک بند کر دیئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ محرم الحرام کے موقعہ پر بھی سنیما گھر دس روز کے لیئے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سے سنیما گھروں پر مختلف طریقوں سے ایسا دباو ڈالا کہ ان کے لیئے تفریح مہیا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے پہلے ان پر سنیما گھروں کے باہر بڑی تصاویر لگانے کی پابندی لگائی تھی۔ پشاور میں کئی سنیما گھر پہلے ہی کاروبار کے غیرمنافع بخش ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔ ان کی جگہ اب کمرشل پلازوں نے لے لی ہے۔ |