بِکنی ساٹھ سال کی ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہنے کو تو بِکنی معمولی سی شے ہے مگر اس میں شک نہیں کہ اس منحنی سے لباس نے فیشن کی دنیا بدل کر رکھ دی ہے۔ آج بکنی ساٹھ سال کی ہوگئی ہے۔ بکنی نے سکینڈل بھی جھیلے اور نت نئے عارضی فیشنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں پیچھے بھی چھوڑا۔ یہی بکنی خواتین کے لیئے نجات دہندہ بھی قرار پائی اور پھر بِکنی کو اس تنقید کا بھی سامنا رہا کہ اس نے خواتین کو نمائش کی ایک شے بنا کے رکھ دیا۔ بِکنی پہنے والی خواتین نے وقت کے دھارے میں بہتے بہتے آج نہ صرف روایت کا روپ اختیار کر لیا ہے بلکہ وہ بیسویں صدی کی ثقافت میں ایک تصویر کا درجہ رکھتی ہیں۔
انیس سو باسٹھ کا وہ زمانہ کسے یاد نہ ہوگا جب ’ڈاکٹر نو‘ فلم کی نمائش ہوئی تھی اور جس میں ارسلا انینڈرس بونڈ گرل کے طور پر سفید بکنی پہنے سمندر سے نمودار ہوتی ہیں۔ ان کی سفید بیلٹ میں چاقو سجا ہوا ہے ۔ فلم کا یہ سین اتنا یادگار بن گیا کہ چالیس برس بعد ہیلی بیری نے بونڈ سیریز کی ایک فلم ’ڈائی این ادر ڈے‘ میں یہی سین پھر سے دہرایا۔ دو ہزار ایک میں ڈاکٹر نو میں استعمال ہونے والی بِکنی اکسٹھ ہزار پانچ سو ڈالر میں نیلام ہوئی۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو بِکنی سترہ سو سال پرانا لباس ہے۔ سِسلی میں تین سو اے ڈی کے ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ بِکنی پہن کر لڑکیاں ورزش کیا کرتی تھیں۔ لیکن بِکنی فیشنی لباس کے طور پر انیس سو پچاس کے زمانے میں منظرِ عام پر آئی۔ امریکی مصنف اور سابق ماڈل کیلی کلورن جنہوں نے بِکنی کی سالگرہ پر بکنی بک نامی کتاب لکھی ہے، کہتی ہیں کہ یہ لباس دراصل خواتین کے اظہار کی علامت بن گیا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بِکنی نے لوگوں کو اعتماد دیا۔ ’بکنی آزادی کی نشانی بن گئی ہے۔ یہ تو ایک طرزِ زندگی ہے۔ لیکن بِکنی کا اتنے زمانے تک رواج پذیر رہنا دراصل اس سے منسوب سکینڈلز کی وجہ سے ہے۔‘ | اسی بارے میں بیروت کا دوسرا فیشن ویک11 February, 2005 | آس پاس ’ہائی سوسائٹی‘ کا نیا فیشن 05 June, 2006 | انڈیا پرانی تہذیب نیا فیشن12 September, 2003 | صفحۂ اول برٹنی، بیکہم فیشن: چرچ کی تنقید 29 October, 2004 | صفحۂ اول مونگیر سے میلان تک 24 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||