’ہائی سوسائٹی‘ کا نیا فیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہائی سوسائٹی‘ اور امیر طبقے کے لوگ کیا منشیات کی لت کا شکار ہیں یا پھر مختلف قسم کے ’ہائی ڈیزائنر ڈرگ‘ ان کی فیشن ایبل پارٹیوں کا ایک ضروری حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال ہندوستانی سماج میں ایک سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے کیونکہ راہول مہاجن کیس سے قبل بھی نامور ہستیوں کے نام مبینہ طور پر منشیات کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔ ان ہستیوں میں اداکار فیروز خان کے بیٹے فردین خان ، سماج وادی پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی کے بیٹے فرحان اعظمی ، بالی وڈ اداکار آفتاب شیودسانی ، اداکار وجے راج ، فیشن ڈیزائنر پرساد بدپا اور ایک بڑی برانڈ کمپنی کے مالک وغیرہ شامل ہیں۔ نفسیات کے ماہر ڈاکٹر یوسف ماچس والا کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں اچھا کھانا ، اچھا میوزک اور غیر ملکی برانڈ کی شراب ہائی سوسائٹی کی پارٹیوں کی ضرورت تھی لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور انہی ہائی سوسائٹی کی پارٹیوں میں’ڈیزائنر ڈرگ‘ استعمال کیئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف کے مطابق ان’ڈیزائنر ڈرگز‘ میں کوکین، ایل ایس ڈی اور ایکسٹسی جیسی نشہ آور اشیاء شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں کے ڈسکو یا پب میں یہ ڈرگز عام ملتی ہیں لیکن پارٹیوں میں بھی اب شراب کے بجائے یہ سب مہیا کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ماچس والا کے مطابق ہائی سوسائٹی کے جوان ہوں یا کسی بھی عمر کے لوگ انہیں دولت کا نشہ اور سوسائٹی میں سب سے اچھی پوزیشن حاصل کرنے کا جذبہ ایسی ڈرگز لینے پر اکساتا ہے کیونکہ اس کے استعمال کے بعد انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آسمان میں اڑ رہا ہے اور وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ ایسے ہی’ایکسٹسی‘سے انسان میں نفسانی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔ رحیم زیدی ( نام تبدیل کیا گیا ہے ) ایم بی اے کر چکے ہیں۔ ہائی سوسائٹی کے دوستوں کے ساتھ پارٹیاں کرنا ان کا شوق ہے۔ وہ اعلٰی متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اورگھر میں والدین کو پتہ نہیں ہے کہ وہ منشیات لیتے ہیں اور وہ خود منشیات لینے کو برا نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کچھ دیر کے لیئے سکون اور سرور مل جاتا ہے اور پھر میں اس کا عادی نہیں بنا ہوں۔ شراب سے سرور حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے لیکن کوکین کی تھوڑی سے مقدار چند منٹوں میں دوسری دنیا میں پہنچا دیتی ہے اور پھر ڈسکو میں رقص کرتے وقت جوش سا آجاتا ہے‘۔ ڈاکٹر الطاف پٹیل ہر طرح کی منشیات کو نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف وقتی سرور حاصل کرنے کے لیئے ڈرگ انسانی جسم اور فنکشن کے لیئے بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’ کوکین کی زیادہ مقدار لینے سے انسان کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ اس کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔کوکین سے شروع میں نشہ آور سرور ملتا ہے لیکن بعد میں آدمی ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ شراب یا کسی اور مشروب کے ساتھ کوکین کا استعمال سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر یہی چیز پرمود مہاجن کے سیکریٹری وویک موئترا کی موت کا سبب بھی بنی ہوگی‘۔ ممبئی میں ایسے کئی ڈسکو اور پب ہیں جہاں ان منشیات کو لوگ کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔ پولیس کا عملہ سب جانتے ہوئے بھی ان جگہوں پر چھاپہ مار کر منشیات استعمال کرنے والے افراد کوگرفتار نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں اعلٰی سوسائٹی کے لوگ ہوتے ہیں جن کا اثر رسوخ اعلٰی لیڈران اور پولیس کے ہی اعلٰی عہدیداروں تک ہوتا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر اروپ پٹنائیک کا کہنا ہے کہ ’ ہم کس بنیاد پر یہاں چھاپہ ماریں جب کہ کوئی شکایت ہی نہیں کی جاتی ہے اور پھر اگر پولیس کبھی ایسی ہمت کر بھی لیتی ہے تو انہیں خود مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سوسائٹی کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ پولس کب سے اخلاقیات کا درس دینے بیٹھ گئی‘۔ | اسی بارے میں ’راہول کی حالت مزید بہترہوئی ہے‘04 June, 2006 | انڈیا بالی وڈ ستارے منشیات لیتے ہیں؟02 July, 2005 | فن فنکار منشیات پر انڈیا۔پاک مذاکرات13 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||