انڈونیشیا:پلے بوائے کےخلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی پولیس نے پلے بوائے کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ میگزین کا آئندہ شمارا انڈونیشیا میں شائع نہ کریں۔ آبادی کے لحاظ دنیا میں سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں مذہبی جماعتوں نے عریاں تصویریں شائع کرنے والے امریکی میگزین کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ انڈونیشیا میں پلے بوائے کے ایڈیٹروں کا کہنا ہےکہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ اس امریکی میگزین کے درمیانی صفحے کی تصویروں میں سب کے بدن پر کپڑے ہیں ۔ لیکن جکارتہ میں جہاں پلے بوائے کے دفاتر ہیں پولیس کا پہرا ہے۔بدھ کے روز مظاہرین نے عمارت پر پتھرؤا کیا تھا۔ اسلامی گروپوں کا کہنا تھا کہ وہ عریانی کے خلاف جنگ پر نکلے ہیں۔ پلے بوائے کا عملہ دفتر خالی کرکے ایک اور عمارت میں جا چکا تھا۔ میگزین کے اشتہار دینے والے کے اداروں کو بھی دھمکیاں ملی ہیں۔ پولیس نے پلے بوائے سے کہا کہ آئندہ ایڈیشن نہ چھاپا جائے لیکن ایڈیٹر انچیف اروِن آرنادا نے کہا ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انڈونیشیا دنیا میں سب سے بڑا مسلم ملک ہے جس میں سیکیولر جمہوریت قائم ہے۔ سیاسی گروپ آجکل عریانی کے خلاف ایک مسودہ قانون پر بحث کررہے ہیں۔ سخت موقف والے کہتے ہیں کہ عریاں لباس اور سربازار عورت مرد کا ہاتھ پکڑ کے چلنا ممنوع ہونا چاہۓ لیکن اعتدال پسند اکثریت غالباً اس سے اتفاق نہ کرے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ احتجاج کے باوجود پلے بوائے کا پہلا ایڈیشن سارے کا سارا بک گیا ہے۔ | اسی بارے میں انڈونیشیا مسلم دنیا کے لیے مثال: رائس15 March, 2006 | آس پاس اوڑھنی مقابلۂ حُسن میں رکاوٹ نہیں30 July, 2004 | آس پاس انڈونیشیا: جمیعۃ اسلامیہ کے ارکان گرفتار21.06.2003 | صفحۂ اول آچے میں شرعی عدالت کا قیام05.03.2003 | صفحۂ اول فحاشی کی تعریف کون کرے گا؟15.08.2002 | صفحۂ اول ’فحاشی سے خوفزدہ ہوں‘12 November, 2003 | صفحۂ اول چین میں فحاشی پر عمر قید06 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||