| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فحاشی سے خوفزدہ ہوں‘
انگریزی گانوں کی معروف گلوکارہ کائیلی مینوگ کا کہنا ہے کہ وہ موسیقی کی صنعت میں بڑھتی ہوئی جنسی ہیجان خیزی سے ’خوفزدہ‘ ہیں۔ پینتیس سالہ گلوکارہ کائیلی مینوگ نے، جو خود بھی اپنے مختصر ترین ملبوسات اور ہیجان انگیز انداز کی بناء پر شہرت رکھتی ہیں، موسیقی کے معروف ’پوپ کلچر‘ کی اس روش پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جسے انہوں نے ’فحاشی‘ قرار دیا ہے۔ جرمنی سے شائع ہونے والے ایک جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات تو وہ موسیقی کے کچھ ’ویڈیو‘ (عکس بندی) دیکھ کر جھینپ جاتی ہیں بلکہ کبھی کبھی تو شرم سے سرخ ہوجاتی ہیں۔ کائیلی مینوگ کا یہ تبصرہ ایک تازہ امریکی تحقیق سے ہم آہنگ ہے جس کے مطابق ’پوپ موسیقی‘ ’بھونڈی، ناشائستہ، غیر مہذب اور خود غرضی اور خود پرستی پر مبنی ہو چکی ہے جس پر جنسیت کا عنصر زیادہ غالب آگیا ہے۔‘ امریکہ یونیورسٹی آف کولاراڈو میں ہونے والی تحقیق کے مطابق گانوں میں استعمال ہونے والا لفظ ’محبت‘ تو گانوں سے ’عنقا‘ ہی ہوگیا ہے۔ موسیقی میں ’محبت‘ کے اس لفظ کا اس قدر کم استعمال اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔ کائیلی مینوگ کا کہنا جب میں بعض گانوں کی عکس بندی دیکھتی ہوں تو میں اتنی ہی خوفزدہ ہوجاتی ہوں جتنی کہ میری دادی۔۔۔ میں۔۔۔ سوچتی ہوں کہ آخر یہ لوگ کیا بکواس کام کررہے ہیں وہاں بیٹھے ۔۔۔‘ ’اور اشتہارات اور بعض رسائل و جرائد میں تو آپ موسیقی سے بھی کہیں زیادہ فحاشی دیکھ سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خود ان پر عکس بند کیے گئے پرانے گانوں یا ’ویڈیو‘ میں، جن میں انہیں کپڑے تک اتارتے ہوئے دکھایا جاچکا ہے اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جیسا کہ آج کل ذرائع ابلاغ سے نشر کیا جارہا ہے۔ ’جیسے کہ ایک بار میں بہت ہی تنگ اور چیت لباس پہنے تھی اور وہ بھی ایک مختصر سی پینٹ کے ساتھ۔۔۔تو اب آج کل جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔‘
کائیلی مینوگ کا، جو اپنے انفرادی گانے ’سلو‘ (آہستہ) کی بناء پر برطانیہ میں موسیقی کے ’چارٹ‘ پر اوّل رہ چکی ہیں، کہنا ہے کہ اس گانے کا ’ویڈیو‘ ان لازمی مناظر کے خلاف ایک دانستہ کوشش ہے۔ اگرچہ خود ان کو بھی اس گانے میں مردوں کے درمیان نہانے کا انتہائی چست لباس پہنے دکھایا گیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس میں صرف کھڑی ہوں۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں کر رہی جو ہیجان انگیز ہو۔۔۔‘ گزشتہ چالیس برس کے مشہور ترین گانوں پر مبنی امریکی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنسی مناظر کے انقلاب اور ان کے بڑھتے ہوئے اثرات میں ’پوپ گانوں‘ کی معصومیت کہیں کھو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||