اصل کہانی کیا تھی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ممتاز مورخ روملہ تھاپر کی حالیہ کتاب کو ستمبر کے آخر میں لندن کے ’ویرسو‘ پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ ’سوماناتا: ایک تاریخ کی کئی آوازیں‘ نامی اس کتاب میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا گیارھویں صدی عیسوی میں سومنات کے مندر پر محمود غزنوی کے حملے اور بت شکنی کے واقعے کا ذکر اس زمانے کے تاریخوں اور لوگوں نے بھی اسی طرح کیا تھا جیسے کہ آنے والے برسوں میں کیا گیا؟ روملہ تھاپر کہتی ہیں کہ سومنات مندر پر حملے اور اس کے بڑے بُت کو توڑنے کے واقعے کو بھارت میں ہندو مسلم تفریق کا ایک کلیدی لمحہ بتایا جاتا ہے جبکہ شاید حقیقت میں اس زمانے میں اس کی شاید اتنی اہمیت نہیں تھی۔مورخ نے اس کتاب میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس حملے کو برسوں سے محض سیاسی اور قوم پرست ایجنڈوں کے لیے استعمال کیا گیاہے؟ اس سوال پر تحقیق کرنے کے لیے انہوں نے تاریخ کے ثبوت کی طرف رخ کیا ہے یعنی ان شواہد کو دیکھا ہے جن کا تعلق اس علاقے اور اس واقعے کے قریب ترین ہے۔ یوں انہوں نے نہ صرف عربی، فارسی اور ترک ذرائع کی چھان بین کی ہے بلکہ جین اور سنسکرت دستاویزات اور عمارتوں پر درج معلومات کا بھی مکمل جائزہ لیا ہے۔
روملہ تھاپر کا خیال ہے کہ سومنات کے حملے کے بہت بعد کے لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کے مطابق پیش کیا ہے۔ یوں ہندو قوم پرستوں (یہاں بی جے پی کا خاص ذکر کیا گیا ہے) نے اس واقعے کو مسلمان انتہا پسندی اور جارحیت کی مثال قرار دیا ہے جبکہ مسلمان قوم پرستوں اور ایک مخصوص ’اسلامی‘ نظریے کو فروغ دینے والے مورخین اور سیاستدانوں نے اسے اسلام کی ایک فتح اور محمود غزنوی کو ایک فاتح اور بت شکن تصور کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی راج میں سب سے پہلے انگریزوں نے اس واقعے کو ہندو مسلمان تفریق کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کے بعد سے متضاد نظریات کے لوگ اسے اپنے اپنے معنی بتاتے رہے ہیں۔ روملہ تھاپر کا کہنا ہے کہ گیارھویں صدی سے دو تین صدیوں بعد تک اس واقعے کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی اور مقامی ذرائع اور دستاویز میں اس کا معمولی سا ذکر ہے۔ ان معلومات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس زمانے میں اور اس ماحول میں مندروں کی تباہی لوٹ مار اور پھر مرمت عام تھی۔ روملہ تھاپر کی کتاب ایک انتہائی مفصل تحقیق ہے۔ تمام شواہد اور دستاویزات کی چھان بین کے ساتھ اس زمانے کی آوازوں کو سنوانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے کام کا طریقہ وہ ہے جو مورخین کا ہونا چاہیے یعنی مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور شواہد پر مبنی۔ یہ کام ایک مکمل سائنسی یا کیمیائی انداز کی تحقیق کی طرح کا ہوتا ہے اور اس میں آپ پہلے سے نتائج کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روملہ تھاپر کے کام کو بی جے پی کے دور میں حکومت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کے خلاف کئی تحریکیں بھی چلائی گئیں۔ یاد رہے کہ انیس سو بانوے میں بی جے پی کے رہنماؤں نے ایودھیا کی بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے رتھ یاترا کی ابتدا گجرات میں سومنات سے ہی کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||