ہانگ کانگ میں ڈزنی لینڈ کا افتتاح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈزنی کمپنی نے ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی مالیت سےہانگ کانگ میں ایک نیا تھیم پارک کھولا ہے، جو چین میں اس کمپنی کی طرف سے اب تک کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔ ہانگ کانگ کا ڈزنی لینڈ لینٹانو جزیرے پر قائم ہے اور توقع ہے کہ یہ نیا تھیم پارک پہلے سال ہی پچپن لاکھ کے قریب سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لائے گا۔ اس منصوبے سے جس کی ستاون فیصد ملکیت ہانگ کانگ حکومت کے پاس ہے اگلے چالیس سالوں میں انیس ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ ڈزنی لینڈ کے ایلس ان دی ونڈر لینڈ، جیسے کردار کینٹونیز زبان میں گانے گائیں گے اور پارک میں چینی کھانے فروخت کیے جائیں گے۔ تھیم پارک کا افتتاح چین کے نائب صدر زنگ کنگ ہنگ نے کیا اور دوسرے مہمانوں میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو ڈونلڈ تسانگ اور والٹ ڈزنی کمپنی کے سربراہ مائیکل ایزنر شامل تھے۔ مہمان افتتاحی تقریب میں چینی کے روایتی شیروں کے ناچ سے محظوظ ہوئے۔ شیروں کا یہ ناچ پریوں کے دیس کے ایک بہت بڑے قلعے کے سامنے پیش کیا گیا۔ ڈزنی کمپنی کو امید ہے کہ یہ تھیم پارک ہانگ کانگ میں شاپنگ اور تفریحی کے لیے آنے والے امیر چینیوں اور ان کے بچوں کے لیے ایک بڑی دلچسپی ثابت ہو گا۔ افتتاحی تقریب پر مقامی حکام اور تھیم پارک کے درمیان محکمہ صحت کے حکام کی ٹوپیوں اور بیجز اتارنے پر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ تھیم پارک کے حکام نے پارک میں فروخت کی جانے والی اشیاء خورد و نوش کے معائنے کے لیے آنے والے صحت کے حکام کو اپنی ٹوپیاں اور بلے اتارنے کا حکم دیا تھا۔ اس پر ہانگ کانگ کے حکام ناراض ہوگئے اور انہوں نے ڈزنی کمپنی کو خبردار کیا کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔ ڈزنی لینڈ انتطامیہ نے بعد میں ہانگ کانگ کے حکام سے معذرت کی اور مقامی قوانین کی پاسداری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||