’لائن کنگ کی دھن چرائی گئی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ میں رہنے والی تین غریب بہنیں امریکہ کے بہت بڑے تفریحی ادارے ڈزنی کورپوریشن پر اس بات کا مقدمہ کررہی ہیں کہ ادارے نے ان کے والد کی مرتب کی ہوئی ایک دھن کو بلااجازت بچوں کی مشہور فلم دی لائن کنگ میں استعمال کیا۔ دی لائن سلیپس ٹونائٹ شاید افریقہ کی مشہور ترین دھن ہے اور اس کو ڈزنی نے لائن کنگ میں بھی استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ڈزنی کو اس دھن کے اصل خالق کی بیٹیوں کی جانب سے حقوق ملکیت کی خلاف ورزی کے دعوے کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کو اس دھن کی غیرمعمولی مقبولیت کے منافع سے حصہ نہیں ملا۔ اس دھن کو سولومن مبوبے نے سن انیس سو انتالیس میں ترتیب دیا تھا جس میں اس نے دیہی نٹال میں شیر کے اپنے ایک شکار کو یاد کیا تھا۔بعد میں اس نے اس دھن کے حقوق ملکیت ایک مقامی ادارے کو فروخت کردیے تھے۔ تاہم مبوبے کی بیٹیوں کے مطابق اس وقت رائج برطانوی نوآبادیاتی قانون کے تحت پچیس برس بعد اس دھن کے حقوق ان کو واپس مل جانے چاہیے تھے۔مبوبے کے اہل خانہ نہایت غربت کے عالم میں سوویٹو میں رہتے ہیں۔ خیال ہے کہ اس دھن کو ایک سو ستر مختلف فنکاروں نے مختلف طریقوں سے استعمال کیا اور اس کے ذریعے پوری دنیا میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کمائے گئے لیکن مبوبے کی بیٹیوں کے مطابق ان کو محض پندرہ ہزار ڈالر ملے۔ان تمام مختلف دھنوں میں نمایاں ترین اور سب سے مشہور ڈزنی کی لائن کنگ ہی ہے۔ اگر مبوبے کی بیٹیاں یہ مقدمہ جیت جاتی ہیں تو اس کے بہت دوررس اثرات ہونگے اور اس کے نتیجے میں ان تمام ملکوں میں حقوق ملکیت کے مقدمات شروع ہوسکتے ہیں جہاں جہاں برطانوی نوآبادیاتی قانون رائج رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||