کرشمہ اور کپور میں اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چٹ منگنی پٹ بیاہ تو ہم سبھی سنتے آئے ہیں لیکن چٹ شادی پٹ طلاق کی مثال کم ملتی ہے۔ ہندوستان میں ان دنوں ایسی ہی ایک طلاق کا چرچا ہے جو ابھی ہوئی تو نہیں ہے لیکن خبروں کے مطابق ہونے والی ہے۔ یہ معاملہ ہے بالی ووڈ کی ٹاپ ایکٹریس کرشمہ کپور کا۔ لوگ ابھی کرشمہ کی شادی کے منظر کو بھول بھی نہیں پائے تھے کہ ان کی طلاق کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ انکے صنعت کار شوہر سنجے کپور پچھلے دنوں طلاق کے کاغذات لیکر ممبئی پہنچے تھے لیکن کرشمہ نے کاغذات پر دستخط نہیں کیے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے دستخط کرنے کے لئے سات کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن بعد میں کرشمہ نے اس کی سختی سے تردید کی ۔ کرشمہ کے دوستوں سے پتہ چلا ہے کہ طلاق سنجے نہیں بلکہ کرشمہ چاہتی ہیں ۔ ان کی شادی کو ابھی صرف ڈیڑھ سال ہوئے ہيں اور چار مہینے کی ایک بیٹی بھی ہے۔ یہ شادی بھی بہت سوچ سمجھ کر ہوئی تھی اور اس انداز میں کہ جیسے پریوں کی کوئی کہانی ہو ۔ پھر آخر بات کہاں بگڑ گئی؟ خبریں یہ ہیں کہ اس کی وجہ کرشمہ کے شوہر سنجے کی ایک بہت ’قریبی‘ دوست ہیں ۔ یہاں جو خبریں گرم ہيں ان کے مطابق سنجے اور انکی اس قریبی دوست کے تعلقات اتنے’قریبی‘ ہو گئے کہ کرشمہ کے لئے دلی ميں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک وجہ کرشمہ کی والدہ سابق بالی ووڈ اداکارہ ببیتا کو بھی بتایا جا رہا ہے جو اپنی دونوں بیٹیوں کرینہ کپور اور کرشمہ دونوں کو فلم کے پردے سے دور نہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتی کہ جس طرح شادی کے بعد انہیں اپنے کامیاب فلمی کریئر کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑا اسی طرح انکی بیٹیوں کو بھی گمنامی میں جانا پڑے۔ حقیقت جو بھی ہو کرشمہ اور سنجے طلاق کی راہ پر ہیں۔ بالی ووڈ کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو۔ ابھی کچھ دنوں پہلے سیف علی خان اور امریتا سنگھ الگ ہوئے۔ اس سے پہلے عامر خان نے اپنی بیوی کو چھوڑا۔ اس کے برعکس اکشے کمار کے بارے میں بھی افواہیں گرم رہتی ہیں کہ وہ پریانکا چوپڑا کے بہت قریب آرہے ہیں۔ حالانکہ وہ کئی بار اس کی تردید کر چکے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی ٹونکل کھنہ کے ساتھ بہت خوش ہیں۔ کئی بار تو ایسا لگتا ہے کہ بالی ووڈ کے ستارے بغیر شادی کے ہی زیادہ خوش ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||